کفر کا اعلان کرے اور ان سے بیاہ شادی اور میراث کے عدم جواز کا فتویٰ دے۔ لیکن معاملہ برعکس ہے۔ جو لوگ حضورﷺ کو صحیح معنی میں خاتم النبیین مانتے ہیں لاہوری جماعت ان سے کافروں کا سامعاملہ کرتی ہے اور کسی مرزائیہ لڑکی کا نکاح غیرمرزائی سے جائز نہیں سمجھتی اور نہ ان کے پیچھے نماز درست سمجھتی ہے اور قادیانی جماعت سے بیاہ شادی ومیراث وغیرہ سب کو جائز اور حق سمجھتی ہے۔ حالانکہ یہ جماعت ختم نبوت کی منکر ہے اور خاتم النبیین کے بعد مرزاقادیانی کو نبی مانتی ہے۔ جو سراسر عقیدہ نبوت کے خلاف ہے۔
نیز اگر آپ کے نزدیک مرزاقادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں ہی نہیں دیں اور آنحضرتﷺ کی مساوات بلکہ افضلیت کا بھی دعویٰ نہیں کیا اور کیا مرزاقادیانی نے اسلام کے قطعی اور اجماعی امور میں تاویل اور تحریف بھی نہیں کی۔
کیا ان باتوں سے آدمی کافر اور مرتد ہوتا ہے یا نہیں۔ بلاشبہ مرزاقادیانی ایک وجہ سے نہیں بلکہ صدہا وجوہ سے صریح کافر اور مرتد ہیں۔ لاہوری مرزائی اگرچہ ظاہراً مرزاقادیانی کو نبی نہیں کہتے۔ لیکن دعوائے نبوت کے علاوہ تو مرزاقادیانی کی تمام کفریات کو حق سمجھتے ہیں اور جو شخص صریح کافر کو کافر نہ سمجھے تو وہ بھی کافر اور مرتد ہے۔ مثلاً کوئی شخص مسلیمہ کذاب کے کفر میں تاویل کرے تو وہ بھی کافر ہے۔
لاہوری جماعت کا عجب حال ہے کہ مرزاقادیانی کو ملہم اور مامور من اﷲ بھی مانتی ہے اور ان کے خاص دعوائے نبوت سے انکار بھی کرتی ہے۔ قادیان کے متنبی سے بھی وابستہ رہنا چاہتی ہے اور مسلمان بھی رہنا چاہتی ہے۔
ایں خیال است ومحال است وجنون
قادیانی جماعت سے سوال
جب آپ کے نزدیک مرزاقادیانی حقیقتاً نبی ہے تو پھر آپ لاہوری جماعت کی تکفیر کیوں نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ آپ کے اعتقاد کے مطابق ایک حقیقی نبی اور رسول کے منکر ہیں۔ حیرت ہے کہ مرزامحمود کے نزدیک تمام دنیا کے مسلمان جو مرزاقادیانی کو نبی نہ مانیں تو وہ کافر اور مرتد ہیں۔ مگر محمد علی لاہوری اور ان کے متبعین اگرچہ مرزاقادیانی کی نبوت کا انکار کریں وہ کافر اور مرتد نہیں بھائی بھائی ہیں۔