چھپالیتے ہیں۔ یہود بے بہبود کا یہی شیوہ تھا۔ ’’قراطیس تبدونہا وتخفون کثیراً‘‘
جواب
جواب یہ ہے کہ مرزاقادیانی ماں کے پیٹ سے کافر پیدا نہ ہوئے تھے۔ ابتداء میں اسلامی عقائد رکھتے تھے۔ بعد میں نبوت کا خیال پیدا ہوا۔ لہٰذا پہلی عبارتوں کا پیش کرنا تب مفید ہوسکتا ہے کہ جب مرزائی مرزاقادیانی کی کوئی صاف اور صریح عبارت ایسی دکھادیں کہ جس میں یہ تصریح ہو کہ میری کتاب میں اس کے خلاف جو پاؤ وہ سب غلط ہے۔ صحیح صرف وہی ہے کہ جو میں نے قبل دعوائے نبوت لکھا ہے اور اب دعوائے نبوت سے تائب ہوتا ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی گالیوں اور حضرات انبیاء کی توہین سے توبہ کرتا ہوں۔ مرزائی اگر مرزاقادیانی کی کوئی ایسی عبارت دکھلادیں تو ہم بھی ان کی تکفیر سے تائب ہو جائیں گے۔
ایک ضروری اطلاع
مرزاقادیانی کے وجوہ کفر اگر تفصیل کے ساتھ دیکھنا چاہیں تو رسالہ اشد العذاب علی مسیلمۃ الپنجاب مصنفہ مولانا مرتضیٰ حسنؒ کا ضروری مطالعہ فرمائیں۔ جس میں مولانا صاحب نے مرزاقادیانی کے اور تینوں پارٹیوں کے عقائد کفریہ کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔
مرزاقادیانی کے مضامین میں اختلاف کیوں ہے
مرزاقادیانی کی کتابوں میں جس قدر مختلف اور متعارض مضامین ملتے ہیں غالباً دنیا کے کسی متنبی اور ملحد اور زندیق کے کلام میں اس کا ہزارواں حصہ بھی نہیں مل سکتا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ مرزاقادیانی چالاکی اور عیاری میں سب سے آگے تھے۔ مرزاقادیانی کی یہ روش دیدہ ودانستہ اور خود ساختہ اور پرداختہ ہے۔ کبھی ختم نبوت کا اقرار اور کبھی انکار کبھی حضرت مسیح بن مریم کی مدح اور کبھی ان میں جرح وقدح کبھی نزول مسیح کو متواترات اور قطعیات اسلام سے بتلاتے ہیں اور کبھی اس کو مشرکانہ عقیدہ بتاتے ہیں۔ غرض یہ تھی کہ حقیقت کوئی متعین نہ ہو۔ بات گڑ بڑ رہے اور بوقت ضرورت مخلص اور مفرباقی رہے اور زنادقہ کا ہمیشہ یہی طریقہ رہا ہے۔ لہٰذا مرزاقادیانی کی وہ عبارتیں جو عام اہل سنت والجماعت کے عقائد کے مطابق ہیں۔ ان کے اقوال کفریہ اور الحاد کا کفارہ نہیں بن سکتیں۔ جب تک دو باتیں صراحتاً ثابت نہ ہو جائیں۔ اوّل یہ کہ مرزاقادیانی یہ تصریح کریں کہ میری وہ عبارتیں جو عام اہل سنت کے مطابق ہیں ان عقائد سے میری مراد بھی وہی ہے جو جمہور امت نے سمجھی ہیں۔ دوم یہ کہ عبارتیں اہل سنت والجماعت کے عقائد کے خلاف میری