ہونے میں کوئی شبہ بھی ہوسکتا ہے۔
۵… اور کہتا ہے کہ قرآن کریم کی یہ آیت میری شان میں نازل ہوئی ہے: ’’ھوالذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق لیظہرہ علے الدین کلہ‘‘ یعنی خداتعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا۔ تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کرے۔
۶… پھر اس نے نبوت کا دعویٰ کیا کہ میں مسیح موعود بن کر آیا ہوں اور میں ہی کلمۃ اﷲ اور روح اﷲ اور عیسیٰ ہوں اور بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہوں۔ چنانچہ خود مرزاقادیانی کا قول ؎
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(درثمین اردو)
کوئی دیوانہ اور پاگل ہی اس بات کو مان سکتا ہے کہ قادیان کا ایک دہقان اس عیسیٰ ابن مریم سے بہتر ہے جس کے فضائل اور معجزات کے ذکر سے قرآن اور حدیث بھرا پڑا ہے۔
۷… پھر ذرا پلٹا کھایا اور بولا کہ میں مثیل مسیح ہوں۔ یعنی ان کا شبیہ اور مماثل ہوں۔ جب مرزاقادیانی نے مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تو سوال ہوا کہ آپ جب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ میں عیسیٰ بن مریم کا مثیل اور شبیہ ہوں تو آپ میں تو ان آیات باہرہ اور معجزات ظاہرہ کا نام ونشان بھی نہیں کہ جو قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت مذکور ہیں کہ وہ مردوں کو زندہ کرتے اور مٹی کا پرندہ بنا کر اس میں روح پھونکتے تھے اور وہ زندہ ہوکر اڑ جاتا اور وہ بیماروں کوڑھیوں جذامیوں کو چنگا کرتے تھے۔
مرزاقادیانی سے سوال ہوا کہ جب آپ مثیل مسیح ہیں بلکہ ان سے بہتر ہیں تو آپ بھی مسیح بن مریم کی طرح کرشمۂ مسیحائی دکھائے۔
تو جواب میں یہ کہتا ہے
کہ حضرت مسیح بن مریم سے کوئی معجزہ صادر نہیں ہوا۔ بلکہ یہ تمام کام مسمریزم کے ذریعہ کرتے تھے اور میں (مرزاقادیانی) ایسی باتوں کو مکروہ سمجھتا ہوں ورنہ میں بھی کر دکھاتا۔ چنانچہ مرزاقادیانی (ازالہ اوہام ص۳۰۹ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۲۵۷،۲۵۸) میں لکھتا ہے۔
’’بہرحال مسیح کی یہ تربی کاروائیاں (مسمریزی) زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کی تھیں۔ مگر یاد رکھنا کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے