ہیں۔ اگر یہ عاجز (مرزاقادیانی) اس عمل کو مکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا تو خدا کے فضل اور توفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت ابن مریم سے کم نہ رہتا۔‘‘ سبحان اﷲ! کیا خداتعالیٰ نے جو عیسیٰ علیہ السلام کے معجزات ذکر کئے ہیں۔ وہ حقیقتاً معجزات نہ تھے۔ وہ محض مسمریزم کے کرشمے اور اعجوبہ نمائیاں تھیں اور خداتعالیٰ تو ان فضائل وکمالات کو حضرت مسیح بن مریم کی فضیلت اور منقبت میں ذکر فرماتا ہے اور مرزائے غلام ان کو کھیل تماشہ اور مکروہ اور قابل نفرت قرار دینا کفر نہیں بلاشبہ کفر ہے۔
نیز اس مرزائے غلام نے بہت سی پیشین گوئیاں کیں اور جب وہ جھوٹی نکلیں تو کہنے لگا کہ مجھ سے پہلے بہت سے پیغمبروں کی پیشین گوئیاں جھوٹی ثابت ہوچکی ہیں۔
سبحان اﷲ! مرزاقادیانی سے جب اپنی صداقت ثابت نہ ہوسکی بلکہ جھوٹا ہونا ثابت ہوا تو بے دھڑک کہہ دیا کہ مجھ سے پہلے بہت سے پیغمبروں کی پیشین گوئیاں جھوٹی نکل چکی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ نبی کے لئے صادق اور سچا ہونا ضروری نہیں۔ لہٰذا اگر میری کوئی پیشین گوئی جھوٹی نکلے تو اس سے میری نبوت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ درست فرمایا جھوٹی پیشین گوئی سے جھوٹی نبوت ثابت ہوجائے گی۔ اس کے لئے ہم تیار ہیں کہ آپ کی نبوت کو نبوت کاذبہ مان لیں اور آپ کو نبی کاذب مان لیں۔ وانّا علے ذلک من الشاہدین!
حضرات! ذرا یہ بھی ملاحظہ کر لیجئے کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے کیا کیا دعوے کئے۔ کیا ان بیہودگیوں کے مرتکب اور اس کے پیروکار اس بات کا حق رکھ سکتے ہیں کہ وہ مسجدیں بنائیں یا اسلام کا نام استعمال کریں۔دیکھئے:
دعویٰ الوہیت وابنیت
پیرما امسال دعویٰ نبوت کردہ است
سال دیگر گر خدا خواہد خدا خواہد شدن
منجملہ وجوہ کفر کی ایک وجہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی کو خدا ہونے کا اور خدا کا بیٹا ہونے کا بھی دعویٰ ہے۔
الہام اور نبوت سے دعوؤں کا آغاز ہوا
اور دعوائے الوہیت پر ان کا اختتام ہوا
چنانچہ کہتا ہے: ’’رأیتنی فی المنام عین اﷲ وتیقنت اننی ہوولم یبق لی ارادۃ ولا خطرۃ وبینما انا فی ہذہ الحالۃ کنت اقول انا نرید نظاما