ہوں، آریوں کا بادشاہ ہوں، آدم ہوں، نوح ہوں، ابراہیم ہوں، یوسف ہوں، موسیٰ ہوں، داؤد ہوں، سلیمان ہوں، یعقوب ہوں، تمام انبیاء کا مظہر ہوں، تمام انبیاء سے افضل ہوں۔
اب آگے چلئے! یہ دعاوی تو مقام ولایت ونبوت اور مقام بادشاہت سے متعلق تھے۔ اب اس کے بعد مقام الوہیت ہے۔ اس بارہ میں مرزاقادیانی کے دعاوی سنئے۔
مظہر خدا ہوں، خداہوں، مانند خدا ہوں، خالق ہوں، خدا کا بیٹا ہوں، خدا کی بیوی ہوں۔ اس کے علاوہ اور بھی بے شمار تعلّیاں اور لن ترانیاں ہیں۔ جو کتابوں میں مذکور اور مشہور ہیں۔
اے مرزائیو! ذرا بتاؤ تو سہی کہ مرزاقادیانی آخر کیا تھے
خدارا غور کرو اور اپنے اوپر رحم کرو کہ کدھر جارہے ہو۔ الغرض مرزاقادیانی نے اپنے زمانۂ حیات میں قسم قسم کے دعوے شائع کئے جو بلاشبہ محال اور سراپا لغو تھے۔
۱… سب سے پہلے مرزاقادیانی نے ملہم من اﷲ ہونے کا دعویٰ کیا۔ پھر کہ مجھ پر وحی آتی ہے اور میں نبوت کے خلعت سے سرفراز کیاگیا ہوں۔ پھر اور آگے بڑھا اور کہنے لگا کہ میں وہ موعود اور مبشر ہوں کی جس کی آمد کی عیسیٰ علیہ السلام نے بشارت دی ہے۔ جو قرآن کریم بدین الفاظ مذکور ہے۔ ’’واذ قال عیسیٰ بن مریم یابنی اسرائیل انی رسول اﷲ الیکم مصدقالما بین یدی من التوراۃ ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسہ احمد‘‘
یعنی جب عیسیٰ بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف خدا کا رسول ہوں توریت کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک آنے والے رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہے۔
اے مسلمانو! مرزائے قادیان کی جسارت اور دیدہ دلیری کو دیکھو کہ یہ کہتا ہے کہ وہ احمد مبشر میں ہوں۔ جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔
۲… اور کہتا ہے کہ یہ آیت ’’انا انزلناہ بالقادیان وبالحق نزل‘‘ ہم نے قادیان میں ایک رسول اتارا اور حق پر اتارا۔ (ازالہ اوہام ص۷۳ حاشیہ، خزائن ج۳ ص۱۳۸) اے مسلمانو! کیا اس سے بڑھ کر کوئی کفر ہوسکتا ہے کہ قرآن کی جو آیتیں خاص محمد رسول اﷲﷺ کے بارہ میں نازل ہوئیں۔ ان کے متعلق کوئی یہ دعویٰ کرے کہ یہ آیت میرے بارہ میں نازل ہوئی یا کوئی گستاخ آیات قرآنیہ میں قادیان یا اپنے کسی شہر کا نام بڑھا کر یہ کہنے لگے کہ یہ آیت میرے اور میرے شہر کے بارہ میں نازل ہوئی۔ کیا ایسے گستاخ اور شوخ چشم کے کافر