استدلال حضرت سلمہ بن صخر بیاضیؓ کے قصہ سے ہے، جوکفارہ ظہار سے متعلق ہے(یہ واقعہ رمضان کی رات میں پیش آیا) اس میں یہ الفاظ آئے ہیں:
فأطعم وسقا من تمر بين ستين (ابوداؤد: ۱؍۳۰۲ باب فی الظھار)
’’ایک وسق کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلادو‘‘۔
اورظاہر ہےکہ ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے۔ نیز ابوداؤد شریف میں حضرت اوس بن صامتؓ کے ظہار کے قصہ میں دو طرح کی روایات منقول ہیں ؛ ایک میں ہے: العرق ستون صاعاً (عرق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے)دوسری میں ہے: والعرق مکتل یسع ثلاثین صاعاً (عرق ایک ٹوکرا ہے، جس میں تیس صاع آتا ہے) امام ابوداؤد(۱؍۳۰۲) فرماتے ہیں:وھذا أصح (تیس صاع والا قول اصح ہے)۔ حنفیہ بھی یہ کہتے ہیںکہ عرق کا تیس صاع ہونا ہی راجح ہے؛ لیکن مسلم کی روایت میں کفارہ رمضان کے قصہ میں ہے کہ دوعرق طعام (جو) لایا گیا تھا:
فَجَاءَهُ عَرَقَانِ؛ فِيهِمَا طَعَامٌ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِهِ
(مسلم : ۱؍۳۵۴ الصوم، باب تغلیظ تحریم الجماع فی نہار رمضان)
’’تبھی دوعرق غلہ (جو) لایا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیاکہ اس کا صدقہ کردو‘‘۔
اسی طرح حضرت اوسؓ بن صامت کا قصہ جو کفارہ ظہار کا ہے، اس میں بھی یہی بات ہےکہ دوعرق کھجور لایا گیا تھا؛ ایک عرق کوئی اورلایا تھا، اورخود حضرت اوسؓکی زوجہ حضرت خولہؓنے مزید ایک عرق سے امداد کیاتھا، اس طرح مجموعہ ساٹھ صاع کھجور ہوگیا، جوکفارہ میں مطلوب تھا:
فأتي ساعتئذ بعرق من تمر قلت يا رسول الله فإني أعينه بعرق آخر قال قد أحسنت اذهبي فأطعمي بها عنه ستين مسكينا وارجعي إلى ابن عمك قال والعرق ستون صاعا (ابوداؤد:۱؍۳۰۲ طلاق، باب فی الظہار)