ایک بات یاد رکھیںکہ مالکیہ کے نزدیک اصح قول کے مطابق ذراع چھتیس انگل کا ہوتا ہے؛ یعنی:چھ سو پچاسی ملی میٹر، آٹھ سو میکرومیٹر۔ (شرح کبیر:۱؍ ۳۵۸، فواکہ دوانی:۲؍۶۱۳)
الشِبْر
شبر (نو انچ): دوسو اٹھائیس (۲۲۸) ملی میٹر، چھ سو میکرومیٹر
شبر کے معنی ہیں بالشت، علامہ شامیؒ نے لکھا ہےکہ ذراع تقریباً دو بالشت کا ہوتا ہے:
وھو قریب من ذراع الید؛ لأنہ ست قبضات، وشیئ، وذالک شبران
’’ذراع کرباس ایک ہاتھ کے لگ بھگ ہوتاہے؛ کیونکہ ہاتھ چھ مٹھی سے کچھ زائد ہوتا ہے، نیز ہاتھ دوبالشت ہوتا ہے‘‘۔ (ردالمحتار، کتاب الطہارۃ، باب المیاہ)
علامہ شامیؒ نے یہ تقریبی وزن بیان فرمایا ہے۔ مفتی محمدشفیع صاحبؒ نے لکھا ہےکہ ایک بالشت چھ انچ کا ہوتا ہے۔ اورچھ انچ کو میٹروں میں تبدیل کریں تو مجموعہ وہی ہوتا ہے، جو اوپر لکھا گیاہے۔
الباع
باع: (دوگز انگریزی): ایک میٹر، آٹھ سو اٹھائیس(۸۲۸) ملی میٹر، آٹھ سو میکرومیٹر
باع: انچ سے بہتر (۷۲)انچ، فٹ سےچھ فٹ
اس کی تفصیل یہ ہےکہ آدمی جب دونوں ہاتھ دائیں بائیں پھیلاتا ہے، تو ایک ہاتھ کی انگلیوں سے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے درمیان جو فاصلہ ہوتا ہے، اس کو باع کہتے ہیں۔ ذراع کے بیان میںمعلوم ہواکہ چار ذراع کرباس کا ایک باع ہوتا ہے:
والميل ألف باع والباع أربعة أذرع والذراع أربعة وعشرون أصبعا
(منحۃ الخالق:۱؍۲۴۳، باب التیمم)
’’میل ایک ہزار باع کا، باع چارذراع کا اورذراع چوبیس انگل کا ہوتا ہے‘‘۔
ذراع کرباس کے میٹروں کو چار سے ضرب دیںگے، تو مجموعہ وہی ہوگا، جو اوپر لکھا گیا ہے۔