اور حساب کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ ائمہ ثلاثہ کا رطل صرف: دوسو تراسی گرام، چارسو پینتیس ملی گرام، دوسومیکروگرام کے مساوی ہے؛ اس لئے ان کا صاع صرف: ۱ کلو، پانچ سو گیارہ گرام، چھ سو باون ملی گرام، چارسو میکروگرام ہوگا۔
فی زمانہ اہل عرب جو صاع کا وزن بتلاتے ہیں اس سے ہماری تحریر پر شبہ نہ کرنا چاہیے؛
کیونکہ ممکن ہے انہوں نے درہم کے پچاس جو کو کسی اورطرح تولا ہو، جس طرح خود حنفیہ میں سے
علمائے دہلی ، مولانا عبدالحئی اورمولانامخدوم سندھی کے حساب میں فرق ہوگیا ہے؛
حالاںکہ سب نے درہم کے ستر جو یا دینار کے سو جوہی کو تول کر دکھلایا ہے۔
کیا ابویوسفؒ کا رجوع ثابت ہے؟
صاحب ینابیع شرح قدوری میں علامہ رشیدالدین محمود بن رمضان رومیؒ نے لکھا ہےکہ
امام ابویوسفؒ کا رجوع ائمہ ثلاثہ کے مسلک کی طرف ثابت ہے، اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا،
علامہ کاکیؒ کا معراج الدرایہ میں اورابن نجیم کا بحر میں اسی طرف رجحان معلوم ہوتا ہے:
ورده في الينابيع بأن الصحيح أن الاختلاف بينهم ثابت بالحقيقة
(بحر،منحۃ الخالق: ۲؍۴۴۳، ۴۴۴ باب صدقۃ الفطر)
راقم حروف کہتا ہےکہ امام ابویوسفؒ کی کتاب الخراج سے صاف ظاہر ہےکہ امام ابویوسف کا اختلاف حقیقی اختلاف نہیں؛ پہلے کتاب الخراج کی پوری عبارت پڑھ لیجیے:
والوسق ستون صاع بصاع النبی ﷺ والصاع خمسۃ أرطال وثلث، وہو مثل قفیز الحجاج مثل الرُبع الھاشمی، والمختوم الھاشمی الاوّل إثنان وثلاثون رطلا (الخراج: ۵۳، فصل ماینبغی أن یعمل بہ فی السواد)
’’وسق نبی کریم ﷺ کے صاع سے ساٹھ صاع کا ہوتا ہے؛ پس پانچ وسق تین سو صاع کے مساوی ہوگا۔اورصاع پانچ رطل اورتہائی رطل کا ہوتا ہے، جوقفیز(صاع) حجاجی کے برابر ہے؛ یعنی رُبع ھاشمی کے مساوی اورپہلے مختوم (قفیز)ھاشمی بتیس (۳۲) رطل کا ہوتا تھا‘‘