معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
مرضی ان لوگوں کی چلتی ہوجن کاپیٹ بھرنے کیلئے وہ شب وروزخودکوہلکان اورنڈھال کئے رکھتاہے…!
٭…اورپھراس گھرکی تیاری اوراس میں موجودسامان اورمال واسباب کی خریداری کیلئے تمام اخراجات کاانتظام بھی توشوہرہی کرتاہے،لہٰذااپنے اسی گھرمیں ہی اگرشوہرکی بجائے کسی اورکی مرضی چلنے لگے تویہ سراسرناانصافی ہوگی۔
٭…اس کے علاوہ یہ کہ شوہراوربیوی کایہ رشتہ قائم کرتے وقت ’’مہر‘‘شوہرنے اداکیا، دیگرتمام مالی اخراجات بھی اسی کے ذمے رہے،لہٰذااب انصاف کاتقاضایہی ہے کہ اسی کی مرضی اوررائے مقدم رہے۔
اس کے بعدمذکورہ آیت :{الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلیٰ النِّسَائِ…} میں نیک عورتوں کی صفات کے بیان میں یہ بات ذکرکی گئی کہ وہ ’’فرمانبرداری کرنے والیاں ہیں‘‘یعنی اللہ کی بھی فرمانبرداری ،اوراپنے شوہرکی بھی فرمانبرداری۔نیزیہ کہ وہ ’’شوہرکی غیرموجودگی میں حفاظت کرنے والیاں ہیں‘‘یعنی عفت وعصمت کی حفاظت ٗشوہرکی عزت کی حفاظت ٗاس کے گھرکی حفاظت ٗاس کے مال واسباب کی حفاظت ٗاوراس کے بچوں کی حفاظت۔
رسول اللہ ﷺکاارشادہے:(اِذَا صَلّتِ المَرأَۃُ خَمْسَھَا وَ صَامَتْ شَھْرَھَا وَحَفِظَت فَرْجَھَا وَ أَطَاعَت زوجَھَا قِیلَ لَھا ادخُلِي الجَنَّۃَ مِن أَيِّ أَبوَابِ الجَنَّۃِ شِئتِ) (۱) ترجمہ:(عورت اگرپانچ وقت کی نمازپڑھے ،رمضان کے روزے رکھے،اپنی عفت وعصمت کومحفوظ رکھے،اوراپنے شوہرکی اطاعت وفرمانبرداری کرتی رہے ٗ تو اسے قیامت کے روزکہاجائے گاکہ:’’جنت کے جس دروازے سے چاہوتم جنت میں
------------------------------
(۱)احمد[۱۶۶۱]وابن حبان۔