معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
کوفوقیت حاصل ہوگی،ساتھ ہی اس فوقیت کی دووجوہات بھی بیان کردی گئیں،پہلی وجہ تویہ ہے کہ: ’’بمافضل اللہ بعضہم علیٰ بعض‘‘ یعنی اللہ نے ہی مردوعورت میں سے بعض کوبعض پرفضیلت عطاء فرمادی ہے،اوراسی فضیلت میں ہی یقینایہ بات بھی شامل ہے کہ مردوعورت دونوں کی جسمانی ساخت اورذہنی کیفیات کومدِنظررکھتے ہوئے انتظامی امورچلانے کیلئے مطلوبہ ہمت وطاقت قدرتی اورفطری طورپرمردکوہی عطاء کی گئی ہے۔ دوسری وجہ یہ بیان کی گئی :’’وبماأنفقوا من أموالہم‘‘یعنی :’’مردوں نے اپنے مال خرچ کئے ہیں‘‘۔ درحقیقت انسانوں کے خالق ومالک کواپنے پیدا کردہ انسان کی فطرت وطبیعت اوراس کی پیدائشی وقدرتی صلاحیتوں کے بارے میں خوب علم ہے ،اوروہ خودانسان سے بھی بڑھ کراس بات سے واقف ہے کہ انسانوں میں سے کس کیلئے کیاچیزبہترہے اورکون کس ذمہ داری کوبحسن وخوبی نبھاسکتاہے؟ چنانچہ اپنے اسی علمِ کامل کی بناء پرہی اس علیم وخبیرکافیصلہ یہ ہے کہ مردگھرسے باہرمحنت ومشقت ٗبھاگ دوڑ ٗ جدوجہداورکسبِ معاش کی ذمہ داری اٹھائے،اورعورت امورِخانہ داری اوربچوں کی تربیت ونگہداشت کافریضہ انجام دے۔ ٭…گھرسے باہرمحنت ومشقت کرکے گھروالوں کیلئے پیسہ کماکرلانااورروزی روٹی کا انتظام کرناجب مردکی ذمہ داری قرارپائی ہے توپھرانصاف کاتقاضایہی ہے کہ گھرمیں اسی کی مرضی اوراسی کی رائے کوفوقیت بھی حاصل ہو،کیونکہ یہ توبڑی ہی ناانصافی ہوگی کہ مرددن بھرخون پسینہ بہاکرجن بیوی بچوں کی خاطرروپیہ پیسہ کماتاہے ٗگھرواپس لوٹنے پراپنے انہی بیوی بچوں کے سامنے ہی اس کی مرضی اوررائے کی کوئی اہمیت ووقعت نہو،اور وہاں