معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
رہاہو،یاایسی اولادجواس کیلئے [اس کی موت کے بعدبھی] دعائے خیرکرتی رہے) ۔ لہٰذا اپنی اولاد کی اخلاقی ودینی تعلیم وتربیت کے بعدہی یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ جب تک ہم اس دنیامیں زندہ رہیں گے اس وقت تک ہماری اولاد ہمارے سامنے کبھی ’’اُف ‘‘ تک نہیں کہے گی،اورجب اللہ کی مرضی اوراس کے حکم سے ہم اس دنیاسے رخصت ہوجائیں گے تب ان شاء اللہ ہماری اولاد ہمارے لئے دعائے خیراوراستغفارکرتی رہے گی، اوریوں ان شاء اللہ ہماری اولاد ہمارے لئے زندگی میں بھی اور ہمارے انتقال کے بعد بھی رحمت ٗ نعمت ٗ اورآنکھوں کی ٹھنڈک ثابت ہوگی۔ یہاںیہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اولاد کی اخلاقی وروحانی تربیت واصلاح کی طرف توجہ اورکوشش کااہتمام وانتظام بچپن سے ہی ہوناچاہئے،کیونکہ جس طرح درخت جب چھوٹا ہوتاہے تواس کی شاخوں کواپنی مرضی کے مطابق موڑاجاسکتاہے اوریوںاس درخت کواپنی مرضی اورپسندکے مطابق بنایااورڈھالاجاسکتاہے، لیکن وہی درخت جب بڑااورمضبوط ہوجائے تواب یہ ممکن نہیں ہوگا، اب اس کی شاخیں ٹوٹ توسکتی ہیں لیکن انہیں اپنی مرضی کے مطابق موڑانہیں جاسکتا، اور نہ اب اس درخت کواپنی مرضی اورپسند کے مطابق کوئی شکل دی جاسکتی ہے۔ بعینہٖ اسی طرح بچے کوہم زندگی بھر کیلئے جس شکل اورجس اندازمیںنیزجن عادات واطوارکاحامل دیکھناچاہتے ہیں ہمیں اس کے بچپن میں ہی اسے وہی شکل دے دینی چاہئے اورانہی طورطریقوں کاعادی بنادیناچاہئے ، ورنہ بڑے ہونے کے بعدیہ کام ممکن نہیں ہوگااورہماری یہ خواہش کبھی پوری نہ ہوگی اورہماراخواب کسی صورت شرمندۂ تعبیرنہ ہوسکے گا اوربس پھرہمیشہ کیلئے حسرت ہی رہ جائے گی… اورتب ہماری اپنی ہی یہ اولاد ہمیں بیگانی