معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
نے فرمایا:’’تمہاری ماںکا‘‘اس نے پوچھا:اس کے بعد؟آپؐ نے فرمایا:’’تمہاری ماں کا‘‘ اس نے پوچھا:اس کے بعد؟آپؐ نے فرمایا: ’’تمہارے باپ کا‘‘)۔
اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے،اس کی تمام تعلیمات آفاقی ہیں ،اسی لئے یہ تمام تعلیمات انسانوں کے فطری جذبات واحساسات اوران کی بشری ضروریات کے عین مطابق ہیں،لہٰذاخالقِ کائنات کی طرف سے ’’باپ ‘‘کی بنسبت ’’ماں‘‘کے حق کومقدم رکھنا ٗ نیزاُس کے ساتھ حسنِ سلوک کی زیادہ تاکیددرحقیقت انسانی فطرت اورانصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔کیونکہ:
٭… اولادکے وجوداورپھراس کی بقاء کے معاملے میں بہت سے مراحل ایسے آتے ہیں جن میں باپ کی بنسبت ماں بہت زیادہ تکلیف اٹھاتی ہے،مثلاًحمل ٗولادت ٗاوررضاعت وغیرہ ایسے مراحل ہیں کہ جن میں باپ کی شرکت کے بغیرتنہاماں ہی تمامترمشقت وصعوبت برداشت کرتی ہے۔
جیساکہ قرآن کریم میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیاگیاہے :
{وَ وَصَّینَا الاِنسَانَ بِوَالِدَیہِ حَمَلَتہُ أُمُّہٗ وَھْناً عَلیٰ وَھْنٍ وِّفِصَالُہٗ فِي عَامَینِ أَنِ اشکُرلِي وَلِوَالِدَیکَ اِلَيَّ المَصِیرُ} (۱) ترجمہ:(ہم نے انسان کواس کے والدین کے بارے میں نصیحت کی ہے،اس کی ماں نے اسے [دورانِ حمل]اٹھائے رکھاکمزوری پرکمزوری کے ساتھ،اوراس کی دودھ چھڑائی دوبرس میں ہے،کہ تومیری اور اپنے ماں باپ کی شکرگذاری کر،آخرمیری ہی طرف لوٹ کرآناہے)
نیزارشادربانی ہے: {وَ وَصَّینَا الاِنسَانَ بِوَالِدَیہِ اِحسَاناً حَمَلَتہُ أُمُّہٗ کُرھاً
------------------------------
(۱)لقمان[۱۴]