معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
یَرحَمُکُم مَّن فِي السَّمَائِ) (۱) (ترجمہ: رحمن انہی پررحم فرماتاہے جودوسروں پررحم کرتے ہوں ،تم زمیں والوں پررحم کرو،آسمان والاتم پررحم کرے گا) ایک بارجب رسول اللہ ﷺکی ایک صاحبزادی کے کمسن بچے کی طبیعت خراب تھی اورصورتِ حال کافی تشویشناک تھی… تب آپ ﷺنے اس بچے کواپنی گودمیں لیا،اُس وقت بچے کی سانس اُکھڑرہی تھی اورنزع کے کچھ آثارنمایاں تھے…یہ منظردیکھ کرآپ ﷺکی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے ، وہاں موجودافرادمیں سے حضرت سعدبن عبادہ رضی اللہ عنہ نے قدرے تعجب اورحیرت کے اندازمیں آپ ﷺ سے دریافت کیاکہ : یارسول اللہ !آپ بھی…؟ اس پررسول اللہ ﷺنے فرمایا: (اِنَّمَا ھِیَ رَحمَۃ جَعَلَھَا اللّہُ فِي قُلُوبِ عِبَادِہٖ، وَ انَّمَا یَرحَمُ اللّہُ مِن عِبَادِہٖ الرُّحَمَائُ) (۲) ------------------------------ (۱) ترمذی[۱۹۲۴]باب ماجاء فی رحمۃ المسلمین٭احمد[۶۴۹۴]٭ابوداؤد[۴۹۴۱]باب فی الرحمۃ۔ (۲) ٭بخاری[۱۲۲۴]باب قول النبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم؛ یعذب المیت ببکاء بعض أہلہٖ علیہ… امام نووی نے یہ حدیث ریاض الصالحین میں ’’باب الصبر‘‘میں ذکرکی ہے۔ یہاں یہ تذکرہ بھی مناسب ہوگاکہ ظنِ غالب یہ ہے کہ رسول اللہﷺکی یہ صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہاتھیں، مزیدیہ کہ یہ ان کایہ کون ساکم سن بچہ تھا…؟ بیٹا تھا یابیٹی تھی …اورپھریہ کہ اس موقع پراس کی وفات ہوگئی ؟یایہ کہ وہ زندہ بچ گیاتھا…؟اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ملاحظہ ہو:دلیل الفالحین لطرق ریاض الصالحین،باب الصبر،ج:۱۔ص:۱۸۲۔ ٭یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکرہے کہ بعض روایات میں اس حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں:’’ھذہٖ رَحمَۃ وَضَعَھَا اللّہُ فِي قُلُوبِ مَن شَائَ مِن عِبَادِہٖ) (ملاحظہ ہو:صحیح بخاری[۵۳۳۱]باب عیادۃ الصبیان) یعنی:’’یہ تورحم کے جذبات ہیں ٗ جوکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کے دل میں چاہتاہے ڈال دیتاہے‘‘۔اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ یہ رحمت وہمدردی کے جذبات ہرایک کونصیب نہیں ہوتے ، بلکہ یہ نعمت توصرف انہی خوش نصیبوں کوہی نصیب ہوتی ہے جنہیں خوداللہ تعالیٰ اپنی اس نعمت کیلئے منتخب فرماتے ہیں۔