ہماری اس صدی کے آغاز میں اگرچہ انگریزوں کے دم قدم سے مادیت کے قدم اس ملک میں جم گئے تھے اور اہل دل بڑے درد سے کہہ رہے تھے۔
وہ جو بیچتے تھے دوائے دل وہ دوکان اپنی بڑھاگئے
پھر بھی شق الٰہی کی کہیں کہیں دکانیں موجود تھیں جہاں سے جذب وشوق اور دردومحبت کا سودا ملتا تھا ان دوکانوں میں دودکانیں خاص طور پر مرجع خاص وعام تھیں ایک گنگوہ میں (حضرت مولانا رشید احمد صاحب گنگوہی کی خانقاہ) اور ایک گنج مراد آباد میں (حضرت مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی کی خانقاہ) دونوں نے اپنی اپنی جگہ دردومحبت اور اتباع سنت کا بازار گرم کررکھاتھا، اور اس جنس نایاب کو وقف عام کردیاتھا۔
(تذکرہ مولانا فضل رحمٰن گنج مراد آبادی۱۰)
اورپھر گنگوہ کی بارگاہ دردمحبت سے حضرت مولاناخلیل احمد صاحب نے دردومحبت کی متاع گراں مایہ حاصل کرکے سہارنپور میں عشق ومحبت کی بارگاہ سجائی اور اس کا بازار گرم کیا۔
کہتے ہیں کہ:
’’اس زندگی کی آبرو اور اس باغ ہستی کی ساری بہار اور سارا وقار اس دنیا کا سارا ہنگامہ ٔ وجود اسی دردومحبت کے دم سے ہے اس کے بغیر یہ محفل سونی اور یہ گھر بے چراغ ہے خرمن کائنات میں یہی ایک کام کا دانہ ہے اگر یہ نہیں تو پھر سب خس وخاشاک ہے۔
درخرمن کائنات کردیم نگاہ
یک دانۂ محبت است باقی ہمہ کاہ
اہل دل نے تو اس دن کو اپنی عمر میں شمار کرنے سے انکار کردیا ہے۔ جو عشق ومستی کے بغیر گزر گیا امیر خسرو نے ایسے سب اہل دل کی ترجمانی فرمائی ہے۔
ناخوش آں وقت کہ برزندہ
دلاں بے عشق رفت
ضائع آں روزے کہ برمستاں
بہ ہشیاری گزشت
(تذکرہ شاہ فضل الرحمن :۱۰)
یہی دردومحبت یہی عشق الٰہی یہی کیف ومستی اور یہی تعلق مع اللہ کی کیفیت حضرت مولانا خلیل احمد صاحب کاحاصل زندگی اور سرمایہ حیات تھی آپ اس کے داعی اس کے مبلغ اور س کے قاسم تھے آپ کی دوکان دردومحبت سے بے شمار انسانوں نے یہ متاع گرانمایہ حاصل کی اور آپ کے گرم کئے ہوئے عشق الٰہی کے بازار سے ہزاروں خوش نصیب لوگوں نے ان نایاب لعل وگہرسے