مدرسہ قائم کرنے کا طریقہ |
درسہ قا |
|
زکوۃ کی رقم جہاں چاہیں مصرف میں خرچ کردیں ایک صاحب نے تحریر فرمایا کہ حضرت والا آپ کی خدمت میں بمد زکوۃ کچھ رقم بھیجنا چاہتا ہوں ، آپ جہاں چاہیں خرچ فرمائیں ، اجازت دیں ، اور پتہ تحریر فرمائیں تاکہ اس پتہ پر بھیج سکوں ، حضرت نے جواب تحریر فرمایا ۔ مکرم بندہ زیدکرمکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ خدا کرے خیریت ہو ، جب رقم آئے گی ، تو انشاء اللہ آپ کی ہدایت پر عمل ہوگا ، مد ضرور تحریر کردیں ، اللہ پاک ہر طرح عافیت نصیب فرمائے۔ صدیق احمدزکوۃ وچرم قربانی کی رقم مدرسہ کی عمارت میں نہیں لگاسکتے ایک صاحب نے تحریر فرمایا کہ مدرسہ میں زکوۃ کی کافی مقدار میں رقم جمع ہے ، اور تعمیر میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے ، مولانا رفعت صاحب قاسمی نے لکھا ہے کہ حیلہ تملیک کے ذریعہ رقم لگائی جاسکتی ہے ، دیگر ذرائع آمدنی نہیں ہیں ، اسی رقم سے اساتذہ کی تنخواہ بھی دینا چاہتے ہیں ، حضرت اس سلسلہ میں کیا ارشاد فرمارہے ہیں ؟ حضرت نے جواب تحریر فرمایا ۔ مکرمی زیدکرمکم السلام علیکم حالات کا علم ہوا زکوۃ اور چرم قربانی اور دیگر صدقات واجبہ عمارت میں نہیں لگ سکتی اس کے لئے علیحدہ سے چندہ کیا جائے اور زکوۃ کی رقم طلبۃ پر خرچ کی جائے ۔ صدیق احمدزکوۃ سے تنخواہ نہیں دی جاسکتی ایک صاحب نے تحریر فرمایا کہ ہمارے یہاں مدرسہ میں ایک مولوی صاحب پڑھاتے ہیں ، ایک ہزار ان کی تنخواہ ہے ، سب غریب بچے پڑھتے ہیں ، خود مولوی صاحب بھی غریب ہیں ،