وراثت و وصیت کے شرعی احکام |
|
(6)مالِ موصیٰ بہٖ وصیّت کے وقت موجود ہو ۔ یعنی جس چیز کی وصیت کی جارہی ہےوہ شیئ وصیت کے وقت موجود ہونی چاہیئے ،چنانچہ جس چیز کا وصیت کے وقت بالکل وجود ہی نہ ہو اُس کی وصیت درست نہ ہوگی ۔(7)موصٰی لہُ مُوصی کا وارِث نہ ہو ۔ یعنی جس کے لئے وصیت کی جارہی ہےوہ وصیت کرنے والے کا وارث نہ ہو ،اِس لئے کہ وارِث کیلئے وصیّت دسرت نہیں ہوتی۔ نوٹ: واضح رہے کہ وارث ہونے نہ ہونے کا اعتبار وصیت کے وقت میں نہیں ، بلکہ موصی کی وفات کے وقت کیا جائے گا ،پس اگر کوئی شخص زندگی میں تو وارِث تھا اور اُس کیلئے مورِث نے وصیت کردی تھی لیکن مورِث کے مرنے سے پہلے پہلے وہ وارِث نہ رہا ہو تو اُس کیلئے وصیت نافذ العمل ہوجائے گی اِس لئے کہ موصی کی وفات کے وقت وہ وارِث نہ رہا ۔اِسی طرح اگر وصیت کرنے کے وقت کوئی وارِث نہ ہو لیکن موصی کی وفات کے وقت وارِث ہوگیا ہو تو اُس کیلئے وصیت نافذ نہ ہوگی۔گویا وارِث ہونے نہ ہونے میں اصل اعتبار موصی کی وفات کا ہے نہ کہ وصیت کے وقت کا ۔(9)زائدعلی الثلث کی وصیت نہ ہو ۔ یعنی کل مال کے ایک تہائی سے زائد مال کی وصیت نہ ہو ،کیونکہ شرعاً مال کے ایک تہائی کے اندروصیت کرنے کی اِجازت دی گئی ہے،اِس سے زائد مال کی وصیت ورثاء کی اِجازت پر موقوف ہوتی ہے،چنانچہ اگر ایک تہائی مال سےزیادہ کی وصیت کی گئی ہو تو صرف مال کے ایک تہائی حصہ میں وصیت نافذ ہوگی اور اِس سے زائد مال کی وصیت