ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
میں ان حضرات کے علاوہ دوسروں کی تصریح نہیں پائی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ تصویرصرف وہی ناجائز نہیں ہے، جو ’ علی صفۃ الدوام ‘ بنائی جائے ؛بل کہ اگر’علی صفۃ الدوام ‘نہ ہو، تب بھی مالکیہ کے مشہور قول میں اور شافعیہ کے نزدیک’’ ناجائز ‘‘ہے اور مالکیہ میں سے صرف امام اصبغ رحمہ اللہ تعالی اس کے جواز کے قائل ہیں اور اگر چہ علمائے حنفیہ و حنابلہ کی اس سلسلے میں کوئی تصریح نہیں ملی؛لیکن ان کے اصول پر بھی یہی بات ہونا چاہیے؛کیوں کہ ان حضرات کے نزدیک بھی تصویر سازی مطلقاً حرام ہے ،جیسا کہ ہم نے اوپر علماکے حوالے اس سلسلے میں پیش کیے ہیں ۔ الغرض! تصویر خواہ ’علی صفۃ الدوام‘ بنائی جائے یا ’علی صفۃ الدوام ‘نہ بنائی جائے بہ ہر صورت وہ ناجائز ہے ۔ ۴- چوتھے اس وجہ سے کہ ویڈیو کی تصاویر کے بارے میں مولانا موصوف کا یہ کہنا کہ یہ تصاویر نہیں ،کیوں کہ اس میں صورت محفوظ نہیں ہوتی؛بل کہ برقی ذرات ہوتے ہیں ، یہ بھی محلِ تأمل ہے ۔ اس لیے کہ یہ دلیل اگر مان لی جائے، تو پھر کیمرے کی تصاویر کو بھی حرمت کے حکم سے مستثنیٰ کیا جا سکتا ہے ؛کیوں کہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ کیمرے میں بسا اوقات اس قدر باریک قسم کی تصاویر لی جاتی ہیں کہ صورت وشکل واضح نہیں ہوتی؛بل کہ عام طور پر بھی جو تصاویر لی جاتی ہیں ، ان کو کیمرے کی ریل(Reel) میں دیکھنا چاہیں ، تو آنکھ و ناک کا کوئی نقشہ معلوم نہیں ہوتا اور مخصوص شخص کو پہچانا نہیں جا سکتا ، تو کیا اس بنا پر (کم از کم نگیٹیو(Nagetive) کی حد تک)کیمرے کی تصاویر کو جائز قرار دیا جائے گا کہ کیمرے میں ان صورتوں کاکوئی واضح نقشہ نہیں محسوس ہوتا؟ کیوں کہ حضرت مولانا کی اس دلیل سے