ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
سے یکساں ہیں ، مگر حضرت نے ان دونوں کو یکساں خیال فرمالیا ، اس لیے ایک کا حکم دوسری جگہ بیان فرمادیا۔ اس کے علاوہ حضرت مولانا کی یہ بات جمہور علما و فقہاکے بھی خلاف ہے کیوں کہ ’’مالکیہ ‘‘کے مشہور قول میں اور’’ شافعیہ ‘‘کے نزدیک ایسی تصویر بنانا بھی ناجائز ہے، جو ’علی صفۃ الدوام ‘نہ ہو ، مثلا ً:گوندھے ہوئے آٹے میں یا حلوے یاکسی پھل کے چھلکے و غیرہ میں اگر تصویر بنائی جائے، جو عام طور پر باقی نہیں رہتی، تو ان حضرات کے نزدیک یہ بھی ناجائز ہے ۔ چناں چہ ’’ الموسوعۃ الفقھیۃ ‘‘ میں ہے کہ ’’ للمالکیۃ قولان في الصور التي لا تتخذ للإبقاء کالتي تعمل من العجین، وأشھر القولین المنع ، وکذا نقلھما العدوي رحمہ اللہ تعالی ، وقال: إن القول بالجواز ھو لأصبغ رحمہ اللہ تعالی ، و مثل لہ بما یصنع من عجین أو قشر بطیخ ، لأنہ إذا نشف تقطع ، وعند الشافعیۃ : یحرم صنعھا و لا یحرم بیعھا۔ ولم نجد عند غیرھم نصاً في ذٰلک‘‘۔ (۱) p: مالکیہ کے ان تصاویر کے بارے میں دو قول ہیں ، جو باقی رکھنے کے لیے نہ بنائی جائیں ،جیسے وہ صورتیں ،جوگوندھے ہوئے آٹے سے بنائی جاتی ہیں اور ان کا مشہور قول منع ہی کا ہے اور ان دونوں اقوال کو علامہ عدوی رحمہ اللہ تعالی نے بھی نقل کیا ہے اور فرمایا کہ جواز کا قول امام اصبغ رحمہ اللہ تعالی کا ہے اور ایسی تصویر کی مثال یہ بیان کی جیسے گوندھے ہوئے آٹے سے یا تربوز کے چھلکے سے بنائی جائے ؛کیوں کہ جب وہ سوکھ جاتا ہے، تووہ تصویر ٹوٹ بھی جاتی ہے، باقی نہیں رہتی اور ہم نے اس بارے ------------------------- (۱) الموسوعۃ الفقھیۃ:۱۲؍۱۱۱- ۱۱۲