ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
¹یلی ویژÙ |
|
اس کے بعد مولانا وحید الدین نے خوب اور بالکل صحیح کہا کہ ’’ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی فکری اصلاح ہمیشہ تبلیغی مہم کے ذریعہ ہوئی ہے، وہ اسکول کی تعلیم یاٹی- وی کے پروگرام کے ذریعے کبھی پیدا نہیں ہوئی‘‘۔(۱) اب بتائیے کہ ایک ناجائز چیز کو اختیار کرنے سے کیا حاصل؟ جب کہ اس کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ، جس دور میں سیدھے سادے طریقے سے اسلام کی اشاعت کی گئی، اس میں جتنے لوگ اسلام کے حلقہ بہ گوش ہوئے اور تعلیماتِ اسلام سے واقف ہوئے،ان نئے آلات کے ذریعے اس کا( حقیقت یہ ہے کہ)سوواں حصہ بھی نہ ہوئے۔ حاصل یہ کہ اولاًتو فی نفسہٖ بھی یہ پروگرام بعض وجوہات سے ناجائز ہے ، ثانیاً ناجائز امور میں ابتلا کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے بھی ناجائز ہے ، ثالثاً جس مقصد کا لوگ ذکر کرتے ہیں ، وہ اس سے حاصل نہیں ہوتا ہے اور اکے دکے واقعات پر مسئلے کا مدار نہیں ہوا کرتا ۔مسلمانوں کا ٹی- وی چینل(Channel) آج کل بعض حلقوں کی جانب سے یہ آواز اٹھا ئی جارہی ہے کہ مسلمانوں کا بھی ایک’’ ٹی- وی چینل‘‘ (T.V Channel) ہونا چاہیے، تاکہ اس کے ذریعے سے اسلام کی دعوت کو غیروں تک پہنچانے کا کام و فریضہ بہتر انداز میں انجام دیا جاسکے؛ نیز اسلام اور اہلِ اسلام کے خلاف جو پروپیگنڈہ کیا جا رہاہے اور اسلام اور مسلمانوں کی تصویر کو جو بگاڑ کر پیش کیا جا رہا ہے ،اس کا اس’’ چینل‘‘ سے جواب دیا جائے اور اسلام کی اور مسلمانوں کی ------------------------- (۱) الرسالہ، بابت: فروری1991ء