ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
جائے گی ؟ نہیں ! بل کہ یوں کہا جائے گا ’’یہ بھی ناجائز ہے‘‘ اور اس لیے ناجائز ہے کہ یہ اگر چہ ’ علی صفۃ الدوام‘ نہیں بنائی گئی ، مگر ’علی صفۃ الدوام ‘ اس کا ثابت رکھنا ممکن ہے ۔ اسی طرح ٹی- وی کی یہ تصاویر ’علی صفۃ الدوام‘ ثابت و مستقر نہ ہو نے کے باوجود ان کا ’علی صفۃ الدوام‘ باقی و ثابت رکھنا ممکن تو ہے؛ اس لیے یہ بھی ناجائز ہیں ۔ اگر یہ کہا جائے کہ’’ کیمرے کی تصویر تو ’علی صفۃ الدوام ‘ ہوتی ہی ہے ؛اس لیے وہ تو ناجائز ہے، مگر ٹی- وی کی تصاویر ’علی صفۃ الدوام ‘ نہیں ہوتیں ‘‘، تو عرض ہے کہ یہ بات بہ جائے خود غلط ہے اور ہم نے اوپر اس کو ثابت کیا ہے کہ ٹی- وی کی ہر تصویر، جو اس کے کیمرے میں اُتاری جاتی ہے، وہ ’علی صفۃ الدوام ‘ ہو تی ہے اور اسی لیے اس کا دوبارہ دکھا نا ممکن ہوتا ہے ۔ ہاں ! اس کے بعد میں اس کو ثابت و باقی رکھنا یا نہ رکھنا یہ الگ بات ہے ،اس لیے اس میں اور کیمرے کی تصویر میں بنیادی طور پر کوئی قابلِ لحاظ فرق نہیں ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مولانا کو کسی چیز کے ’علی صفۃ الدوام ‘ نہ ہونے اور ’علی صفۃ الدوام‘ باقی نہ رہنے میں اشتباہ ہوگیا ، ’علی صفۃ الدوام ‘ نہ ہو ناتو یہ ہے کہ ’’فی الحال اس میں ثابت و باقی رہنے کی صلاحیت نہ ہو،جیسے آئینے یا پانی کے عکس میں یہ بات نہیں ہوتی اور اسی لیے یہ عکس ہے اور جائز ہے‘‘۔ اور ’علی صفۃ الدوام ‘ باقی نہ رہنا یہ ہے کہ’’ فی الحال تو اس میں باقی رہنے کی صفت ہے کہ اگر چاہے، تو اس کو باقی رکھا جا سکتا ہے ، مگر باقی رکھا نہیں جاتا، مثلاً :ضائع کردیا جاتاہے، تو یہ عکس نہیں ہے؛بل کہ تصویر ہے؛ کیوں کہ پائے دار ہے اور اس لیے یہ ناجائز ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ دو باتیں نہ واقعے کے لحاظ سے یکساں ہیں اور نہ حکم کے لحاظ