ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
اور اگر یہ مراد ہے کہ غیر اللہ کی عبادت و پرستش کا ذریعہ بننے والی تصویر حرام ہے، خواہ وہ منحوت ہو یا منقوش ہو، تب تو یہ بات صحیح ہے؛ لیکن تصاویر کو صرف دو شکلوں میں منحصر کرنے کی بات غلط ہو جاتی ہے؛ کیوں کہ جس طرح کسی زمانے میں تراشیدہ بت شرک کا ذریعہ بنے ہوئے تھے اور اس لیے تصویر کو حرام قرار دیا گیا ،اسی طرح بعد میں منقوش تصویر بھی ذریعۂ شرک بن گئی اور یہ بھی خارج از امکان نہیں ہے کہ ٹی- وی کی صورتوں کو بھی کفار ذریعۂ بت پرستی بنالیں ؛لہٰذا اس کو اس سے خارج قرار دینے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی ۔ دوسرے علاقوں کا حال تو مجھے نہیں معلوم ،البتہ ہمارے یہاں آج کل کفار نے ایک ایسی شکل کو بھی ذریعۂ شرک بنالیا ہے کہ اس سے قبل اس کا شاید تصور بھی نہ کیا جاسکتا ہو ، وہ یہ کہ بجلی کے قمقموں (لائٹوں ) کو جوڑ کر اور ترتیب دے کر، اس سے بتوں اور باطل معبودوں کی شکل بناتے ہیں اور ان کو عیدوں میں (اپنی عادت کے مطابق) گلی کوچوں میں گھماتے ہیں ، اس میں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اگر ان قمقموں کو الگ الگ کر کے دیکھا جائے، تو کوئی صورت نہیں ہوتی؛بل کہ وہ تو صرف قمقمے ہوتے ہیں ،ان کو یہ لوگ بالترتیب جوڑ دیتے ہیں ، جس سے ایک شکل سی بن جاتی ہے ،مگراس کے با وجود میں نہیں سمجھتا کہ کوئی عالم تو عالم ، معمولی دین کا علم رکھنے والا بھی اس قسم کی تصویر کو جائز سمجھتا ہو ۔ اس سے میں یہ بتا نا چاہتا ہوں کہ حرام تصویر جو پوجا کے لیے استعمال کی جاتی تھی ،وہ کبھی تو صرف تراشیدہ بت تھے اور بعد میں نقش کی ہوئی اور کیمرے سے لی گئی تصاویر بھی پوجی جانے لگیں ؛ حال آں کہ اس سے قبل وہ پوجی نہیں جاتی تھیں ، مگر علما نے ان کو بھی ناجائز ہی قرار دیا تھا ۔ اسی طرح ابھی میں نے ہمارے