ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
علاقوں میں رائج شکل کا ذکر کیا ہے ،اس سے قبل اس کا کوئی تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا ؛ لیکن اب وہ بھی رائج ہے ، مگراس کے رواج سے قبل بھی اگر اس صورت و شکل کا سوال اُٹھا یا جاتا، تو اس کو بھی حرام ہی کہا جاتا۔ اسی طرح ٹی- وی کے پردے پر آنے والی صورت کو یہ کہہ کر حرمت کے حکم سے کیوں کر خارج کیا جا سکتا ہے کہ یہ تصویر یں کفار میں پوجی نہیں جاتی تھیں ؟آج اگر نہیں پوجی جاتیں ، تو ہو سکتا ہے کہ کل ان کی بھی عبادت و پوجا کی جائے اور یہ بعید از امکان نہیں ہے ۔ آج اس دورِ ترقی میں کیا کیا نہیں ہو رہا ہے ، اگر ٹی- وی کو اس طرح مندروں اور کفار کی عید برات میں رکھا جائے کہ اس پر ان کے باطل خداؤں کی تصاویر آتی جائیں اور یہ مشرکین و کفار ان کی پوجا کرنے لگیں ، تو کیایہ نا ممکن اور خارج از امکان ہے؟ کیا قادیانی فرقے کے لوگ اپنی عبادت گاہوں میں ٹی- وی رکھ کراپنے امام کا خطبہ نہیں سن رہے ہیں اور اس کی اقتدا میں نماز نہیں پڑھ رہے ہیں ؟ اگر یہ ہو سکتا ہے تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کفار اپنی مندروں میں ٹی- وی کے ذریعے اپنے معبودانِ باطلہ کی پوجا و پرستش کا کوئی سلسلہ قائم کردیں ۔ الغرض! تصویر خواہ فی الحال پوجی جاتی ہو یا اس کے پوجے جانے کا امکان ہو، دونوں ہی اسلام میں ناجائز ہیں ؛ لہٰذا حضرت مولانا کا یہ فرمانا کہ’’ صرف منحوت یا منقوش تصاویر ہی وہ ہیں ،جن کی کفار عبادت کیا کرتے تھے ،اس لیے ٹی- وی کی تصاویر اس قبیل کی نہیں ، اس لیے یہ جائز ہیں ‘‘ خالی از اشکال نہیں ؛بل کہ قابلِ اشکال ہے۔ ۳-تیسرے اس لیے کہ ہم نے اوپر یہ ثابت کیا ہے کہ ہر پروگرام میں