ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
معلوم ہوا کہ صرف دو ہی صورتوں میں حرام تصویر منحصر نہیں ہے؛بل کہ اس کی اور بھی شکلیں علما نے بیان کی ہیں ؛ اس لیے صرف دو شکلوں میں حرام تصویر کو منحصر کرنا صحیح نہیں ، الایہ کہ ہم مولانا موصوف کے کلام میں تاویل سے کام لیتے ہوئے یوں کہیں کہ مولانا نے منقوش کے لفظ سے ان ساری شکلوں کو مراد لیا ہے ۔ ( واللّٰہ أعلم ) ۲- دوسرے اس وجہ سے کہ مولانا موصوف نے فرمایا کہ’’ یہی منقوش و منحوت تصاویر ہیں ، جن کو کفار عبادت کے لیے استعمال کرتے تھے؛اس لیے ممنوع وہی تصویر ہوگی،جو منحوت یا منقوش ہو‘‘مگر یہ بات بھی محل ِنظر ہے؛کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دور کے کفار تو صرف منحوت (تراشے ہوئے بت)کی پوجا کرتے تھے ،اُس دور میں منقوش کی پوجا نہیں ہوتی تھی اور اسی وجہ سے مصری علما اور بعض دیگر حضرات نے کیمرے کی تصویر کے بارے میں جواز کا قول کہا ہے کہ اُس دور میں کفار اس قسم کی تصویر کی پوجا نہیں کرتے تھے؛بل کہ وہ تو ہاتھوں سے بت تراش کر، ان کی عبادت کرتے تھے ۔ ہاں ! بعد کے ادوار میں کفار میں اور بالخصوص ہندی اقوام میں اس کا بھی رواج ہوگیا کہ نقش کی ہوئی اور کیمرے سے لی گئی تصاویر کی بھی عبادت کرنے لگے۔ پس اگر مولانا کا منشا اس عبارت سے یہ ہے کہ اُس دور میں کفار جس تصویر کی عبادت کرتے تھے، حرام صرف اسی قسم کی تصویر ہے، تو اُس دور میں صرف تراشیدہ بت پوجے جاتے تھے اور نقش کی ہوئی تصاویر کی پوجا نہیں کی جاتی تھی؛ اس لیے صرف تراشیدہ تصویر ہی حرام ہونا چاہیے ؛ حال آں کہ یہ بات جمہور علما کے خلاف ہے اور خود حضرت مولانا بھی اس کے قائل نہیں ہیں ۔