ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
اور مستقر علی صفۃ الدوام نہیں ہے اور تصویر وہی ہے،جو علی سبیل الدوام ثابت و مستقر ہو ۔ ۳-ویڈیو کیسٹ(Video Casset) کے ذریعے دکھایا جائے، یہ بھی عکس ہے، اس کو بھی تصویر قرار دینامشکل ہے ۔ اور آپ نے اس کی دلیل یہ بیان کی ہے کہ جو چیز ویڈیو کیسٹ میں محفوظ ہوتی ہے، وہ صورت نہیں ہوتی؛بل کہ وہ برقی ذرات ہوتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ اگر ویڈیو کیسٹ کی ریل کو خورد بین لگا کر بھی دیکھا جائے، تو اس میں تصویر نظر نہیں آتی۔(۱) مگر احقر کو حضرت مولانادامت برکاتہم کے اس کلام میں کئی وجہ سے کلام ہے، جس کو میں یہاں بالترتیب پیش کرتا ہوں اور میں حضرت والا کی خدمت میں با ادب یہ گزارش کرتا ہوں کہ اپنی اس رائے پر نظر ثانی فرمائیں : ۱-ایک تو اس وجہ سے کہ مولانا محترم نے جو یہ فرمایا کہ ’’ حرام تصویر وہ ہے،جو منقوش(نقش کی ہوئی) ہو یا منحوت(تراشی ہوئی) ہو ‘‘ اس میں آپ نے ممنوع تصویر کو صرف دو صورتوں میں منحصر کردیا ہے؛حال آں کہ بات ایسی نہیں ہے؛ کیوں کہ منقوش و منحوت کے ساتھ وہ تصویر بھی ناجائز ہے،جو مدہون (رنگ کی ہوئی) یا منقور (کھدی ہوئی) ہو یا منسوج (بُنی ہوئی) ہو؛ چناں چہ امام ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ویستفاد منہ أنہ لا فرق بین أن تکون الصورۃ لھا ظل أو لا، ولا بین أن تکون مدھونۃ أو منقوشۃ أو منقورۃ أو منسوجۃ ۔(2) ------------------------- (۱) دیکھو: درسِ ترمذی : ۵؍ ۳۵۱ - ۳۵۲ (2) فتح الباري:۱۰؍ ۳۹۰