ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
ہے،جو نقش کی گئی ہو یا تراشی گئی ہو، اس طرح کہ وہ کسی چیز پر ثابت و محفوظ ہو اور وہ ایسی تصویر ہے، جس کوکفار عبادت کے لیے استعمال کیا کرتے تھے، رہی وہ تصویر، جس کو قرار و ثبات نہیں ہے اور وہ علی صفۃ الدوام کسی شے پر منقوش نہیں ہے، تو وہ تصویر سے زیادہ عکس کے مشابہ ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ ’’ٹیلی ویژن‘‘ اور ’’ویڈیو ‘‘کی تصاویر کسی بھی مرحلے میں ثابت و مستقر نہیں ہوتیں ،مگر اس وقت جب کہ فلم کی شکل میں ہوں ،پس اگر انسانوں کی تصاویر اس طرح راست نشر ہوں کہ وہ پردے پر اسی وقت میں ظاہر ہوں ، جس وقت انسان کیمرے کے سامنے ظاہرہو، تو وہ صورت نہ تو کیمرے میں مستقر و محفوظ ہوتی ہے اور نہ پردے پر ثابت ہوتی ہے، بس وہ تو برقی ذرات ہیں ،جو کیمرے سے اسکرین کی جانب منتقل ہوتے ہیں اور پردے پر اپنی اصلی ترتیب کے مطابق ظاہر ہوتے اور پھر فنا و زائل ہوجاتے ہیں ‘‘ ۔(۱) اور درسِ ترمذی میں آپ نے ٹی- وی پر پیش کیے جانے والے پروگراموں کو تین قسموں پر تقسیم کیا ہے : ۱ -پہلے تصویر بنائی جائے اور پھر اس کو ٹی- وی پر پیش کیا جائے ، یہ ناجائز ہے ۔ ۲-جس میں فلم کا واسطہ نہ ہو؛بل کہ وہ براہِ راست ٹیلی کاسٹ( رحمہ اللہ تعالی ele Cast) کی جائے ، یہ عکس ہے، اس کو تصویر قرار دینے میں آپ کو تأمل ہے؛بل کہ آپ اس کو تصویر کے حکم سے خارج مانتے ہیں اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ یہ عکس کسی جگہ پر ثابت ------------------------- (۱) تکملۃ فتح الملہم : ۴؍۱۶۴