ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
صاحبِ عکس کا ایک عرض ہے ،جو اس سے علیحدہ نہیں ہو سکتا ،یہی وجہ ہے کہ آئینہ ، پا نی وغیر ہ میں جب تک کہ ذی عکس ان کے مقابل رہتا ہے، اس وقت تک عکس با قی رہتا ہے اور جب وہ ان کے محاذات سے ہٹ جا ئے، تو عکس بھی اس کے سا تھ چل دیتا ہے۔ دھوپ میں آدمی کھڑا ہو تا ہے اور اس کا عکس زمین پر پڑتا ہے ، مگر اس کا وجود آدمی کے تا بع ہو تا ہے ، جس طرف یہ چلتا ہے عکس بھی اس کے ساتھ چلتا ہے ، زمین کے کسی خاص حصے پر اس کا قائم اور پا ئے دار ہو نا، اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کسی مسالے یا نقش اور رنگ کے ذریعے سے اس سے اس کی تصویر نہ کھینچ لی جائے ۔ حاصل یہ ہے کہ عکس جب تک کہ مسالے وغیرہ کے ذریعے سے پا ئے دار نہ کر لیا جائے، اس وقت تک وہ عکس ہے اور جب اس کو کسی طریقے سے قائم و پائے دار کر لیا جا ئے، تو وہی تصویر بن جا تا ہے ۔ اور عکس جب تک عکس ہے،نہ شرعاّ اس میں کو ئی حرمت ہے اور نہ کسی قسم کی کراہت، خواہ وہ آئینہ ، پا نی یا کسی اور شفاف چیز پر ہو یا فوٹو کے شیشے پر اور جب وہ اپنی حد سے گزرکر تصویر کی صورت اختیار کرے گا، خواہ وہ مسالے کے ذریعے سے ہو یا خطوط و نقوش کے ذریعے سے اور خواہ یہ فوٹو کے شیشے پر ہو یا آئینہ وغیرہ شفاف چیزوں پر ، اس کے سارے احکام وہی ہوں گے، جو تصویر کے متعلق ہیں ۔ غرض یہ کہ مسالہ لگا کر پائے دار کرنے سے پہلے پہلے، صورت کا عکس فوٹوکے شیشے پر بھی ایسا ہی حلال اور جا ئز ہے جیسے آئینہ ، پا نی وغیرہ میں اور مسالہ لگا کر آئینہ وغیرہ شفاف چیزوں پر بھی عکس کو پائے دار کر لینا ایسا ہی حرام و نا جائز ہے،جیسا کہ فوٹوکے آئینے پر ۔ آج اگر کو ئی مسالہ ایسا ایجاد کیا جائے کہ جب اس کو آئینے پر لگا یا جائے، تو