ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
طرح آئینہ ،پانی اور دوسری شفاف چیزوں پر عکس اُترآتا ہے اور اس کو گناہ نہیں سمجھتا اسی طرح فوٹو کے شیشے پر مقابل کا عکس اُتر آتا ہے اور اس کوکو ئی گنا ہ نہیں سمجھتا،اسی طرح فوٹوکے شیشے پر مقابل کا عکس ا ُتر آتا ہے اور فرق صرف یہ ہے کہ آئینے وغیرہ کا عکس پائے دار نہیں رہتا اورفوٹو کا عکس مسالہ لگا کر قائم کرلیا جا تا ہے، ورنہ فوٹو گرافر اعضا کی تخلیق وتکوین نہیں کرتا ،اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ ان حضرات نے فوٹو کی تصویر کوآئینہ ، پا نی وغیرہ کے عکس پر قیاس کیا ہے ، یعنی جس طرح آئینے کے عکس میں حرمت کی کو ئی وجہ نہیں ایسے ہی فوٹو کی تصویر بھی ایک عکس ہے، پھر اس کو کیوں حرام کیا جا ئے ؟ لیکن اگر ذرا تا مل سے کام لیا جا ئے تو واضح ہو جا ئے گا کہ یہ قیاس اصولِ قیاس کے قطعاً خلاف ہے اور ایک عالم کی شان اس سے بہت اعلیٰ ہو نی چا ہیے کہ وہ ایسی ظاہر الفرق چیزوں میں فرق نہ کرے اور ایک پر دوسرے کا حکم نافذ کردے ، فوٹوکی تصویر اور آئینے وغیرہ کے عکس میں چند نما یاں فرق ہیں ، جن کی تفصیل حسب ذیل ہے : ۱- سب سے بڑا فرق تو یہی ہے، جس کو خود یہ حضرات بھی تسلیم کرتے ہو ئے ان لفظوں میں بیان کرتے ہیں ، فرق صرف یہ ہے کہ آئینے وغیرہ کا عکس قائم اور پائے دار نہیں رہتا اور فوٹو کا عکس مسالہ لگا کر قائم کرلیا جا تا ہے۔ مگر وہ اس فرق کو قلیل سمجھ کر نظر انداز کرنا چا ہتے ہیں ؛ حال آں کہ یہی فرق تصویر اور عکس میں ما بہ الامتیاز ہے ،عکس جس وقت تک مسالہ لگاکر پا ئے دار نہ کرلیا جائے، اس وقت تک وہ عکس ہے اور جب اس کو مسالے کے ذریعے سے پا ئے دار اور قائم کرلیا جا ئے، وہی عکس عکس کی حدود سے نکل کر تصویر بن جا تا ہے؛ کیو ں کہ عکس ،