ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
برابر ہے کہ کپڑے میں ہو یا فرش میں یا درھم یا دینار یا پیسے میں ہو یا برتن یا دیوار وغیرہ میں ہو ؛ یہ تو تصویر بنانے کا حکم ہے؛ لیکن ان چیزوں کا استعمال، جن میں ذی روح کی تصویر بنی ہو، تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر وہ دیوار پر معلق یا پہنے ہوئے کپڑے یا عمامہ وغیرہ ایسی چیزوں میں ہو، جو عادتاً ذلیل و حقیر نہیں سمجھی جاتیں ، تو ان کا استعمال حرام ہے اور اگر فرش یا کسی گدے اور تکیے وغیرہ میں ہو، جو عادتا ً ذلیل و پامال ہو تے ہیں ، تو یہ حرام نہیں ہے ۔ اور اس میں کوئی فرق نہیں کہ یہ تصویر مجسم ہو، جس کا سایہ پڑتا ہے یا مجسم نہ ہو؛بل کہ محض نقش و رنگ ہو ، یہ مسئلۂ تصویر میں ہمارے مذہب کا خلاصہ ہے اور یہی مذہب ہے جمہور علما کا صحابہ و تابعین اور ان کے بعد کے علما میں سے اور یہی مذہب ہے امام ثوری اور امام مالک اور امام ابو حنیفہ و غیرہم رحمہم اللّٰہ کا ‘‘۔ اور امام بدر الدین عینی رحمہ اللہ نے بھی تقریباً یہی بات توضیح کے حوالے سے نقل کی ہے، یہاں ان کی عبارت نقل کی جاتی ہے : و في التوضیح قال أصحابنا و غیرھم :’’ تصویر صورۃ الحیوان حرام أشد التحریم و ھو من الکبائر ، و سواء صنعہ لما یمتھن أو لغیرہٖ فحرام بکل حال ؛ لأن فیہ مضاھات لخلق اللّٰہ و سواء کان فيثوب أو بساط أو دینار أو درھم أو فلس أو إناء أو حائط۔ وأما ما لیس فیہ صورۃ حیوان کالشجر و نحوہ فلیس بحرام ، وسواء کان في ھٰذا کلہ ما لہ ظل وما لا ظل لہ ، و بمعناہ قال جماعۃ العلماء مالک و الثوری و أبو حنیفۃ و غیرھم رحمہم اللّٰہ وقال القاضي : الا ما ورد في لعب النبات، وکان مالک یکرہ شراء ذ لک‘‘۔ (۱)