ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
جان دار کی تصویر کو حرام و ناجائز قرار دیتے ہیں ، چاہے وہ تصویر مجسم ہو یا غیر مجسم ہو؛ چناں چہ اس سلسلے میں امام نووی رحمہ اللہ نے شرحِ مسلم میں فرمایا ہے کہ قال أصحابنا وغیرھم من العلماء: ’’تصویر صورۃ الحیوان حرام شدید التحریم ، و ھو من الکبائر لأنہٗ متوعد علیہ بھٰذا الوعید الشدید المذکور في الأحادیث وسواء صنعہ بما یمتھن أو بغیرہٖ ، فصنعتہ حرام بکل حال لأن فیہ مضاھات لخلق اللّٰہ تعالٰی، وسواء ما کان في ثوب أو بساط أو درھم أو دینار أو فلس أو اناء أو حائط و غیرھا ؛ وھٰذا حکم نفس التصویر۔ وأما اتخاذ المصور فیہ صورۃ حیوان فإن کان معلقاً علی حائط أوثوباً ملبوساً أو عمامۃً أو نحو ذٰلک مما لا یعد ممتھنا فھو حرام ، و إن کان في بساط یداس و مخدۃ و وسادۃ و نحوھا مما یمتھن فلیس بحرام ، ولا فرق في ھذا کلہ بین ما لہ ظل وما لا ظل لہ ، ھذا تلخیص مذھبنا في المسئلۃ و بمعناہ قال جماھیر العلماء من الصحابۃ والتابعین و من بعدھم و ھو مذھب الثوری ومالک و ابی حنیفۃ و غیرھم رحمہم اللّٰہ ۔(۱) ترجمہ: ہمارے حضرات اور دوسرے علما نے فرمایا ہے کہ ’’جان دار کی تصویر بنانا سخت حرام ہے اور وہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے ؛اس لیے کہ اس پر ایسی وعیدِ شدید وارد ہے، جو بہت سی احادیث میں مذکور ہے اور اس میں برابر ہے کہ ایسی چیز کی تصویر بنائے جو عادتاً ذلیل و پامال ہوتی ہے یا اور کسی چیز کی ،بہ ہر حال بنانا اس کا حرام ہے ؛ اس لیے کہ اس میں حق تعالیٰ کی صفت ِخلق کی نقل اُتارنا ہے اور یہ بھی ------------------------- (۱) شرح المسلم للنووي: ۲؍۱۹۹