ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
لیکن ناجائز کاموں پر اقدام کی اجازت نہیں ۔ علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالی کی اس عبارت سے واضح طور پر یہ بات ثابت ہوگئی کہ مفاسد سے بچنا اور بچانا،تحصیل ِمنافع و مصالح سے مقدم ہے اور اس مسئلے میں غیروں کو دین سے واقف کرانا اور اسلام کی اشاعت کرنا وغیرہ مصالح ہیں اور حرام کا ارتکاب، مفسدہ ہے؛اس لیے حرام سے بچنے اور بچانے کی فکر کومصالح کی تحصیل سے مقدم رکھنا چاہیے۔ اور اس سلسلے میں حضراتِ فقہا نے چند مسائل بہ طورِ نظیر پیش کیے ہیں : ۱-ایک آدمی کو پیشاب یا پاخانے کی حاجت پوری کرنے کے بعد استنجا یعنی صفائی کے لیے کوئی ایسی جگہ نہیں ملی کہ جہاں وہ لوگوں سے آڑ میں ہوکر صفائی کرے، تو اس کو استنجا سکھانے کی ضرورت نہیں ، اگرچہ یہ آدمی کسی نہر کے کنارے ہی کیوں نہ ہو ، کیوں کہ آڑ نہ ہونے کی صورت میں اس کو لوگوں کے سامنے استنجا کرنا ہوگا ۔ اس مسئلے کی وجہ بیان کرتے ہوئے علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ تعالی نے لکھا ہے کہ لأن النھي راجح علی الأمر حتی استوعب النھي الأزمان ولم یقتض الأمر التکرار ۔(۱) ترجمہ: یعنی یہ مسئلہ اس لیے ہے کہ نہی (جیسے اس جگہ ستر کھولنے پر ہے)تمام زمانوں کو حاوی ہے اور امر(جیسے اس جگہ استنجا کا امر ہے)وہ تکرار کا تقاضا نہیں کرتا۔ مطلب یہ ہے کہ استنجا کرنا تو مامور ہے، مگر امر کو بار بارکرنے کا شرعاً ------------------------- (۱) الأشباہ والنظائر:۱؍۲۹۱