ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
۱- ایک تو اس وجہ سے کہ فقہائے کرام نے لکھا ہے کہ جہاں مفسدہ و منفعت میں تعارض واقع ہو، وہاں دفعِ مفسدہ کو ترجیح دی جائے گی؛کیوں کہ شریعت میں مامورات کی ادائے گی سے زیادہ منہیات سے بچنے پر زور دیا گیا ہے ۔ علامہ ابن نجیم المصری رحمہ اللہ تعالی نے لکھا ہے: قاعدۃ خامسۃ وھي: درء المفاسد أولٰی من جلب المصالح ، فإذا تعارضت مفسدۃ ومصلحۃ قدم دفع المفسدۃ غالبًا ؛ لأن اعتناء الشرع بالمنھیات أشد من اعتنائہٖ بالمامورات ، ولذا قال صلی اللہ علیہ و سلم : إذا أمرتکم بشیء فأتوا منہ ما استطعتم ، وإذا نھیتکم عن شیء فاجتنبوہ ، وروي في الکشف حدیثاً : لترک ذرۃ مما نھیٰ اللّٰہ عنہ أفضل من عبادۃ الثقلین ، ومن ثم جاز ترک الواجب دفعاً للمشقۃ ولم یسامح في الإقدام علی المنھیات۔ (۲) ترجمہ: پانچواں قاعدہ یہ ہے کہ مفاسد کو دور کرنا مصالح کی تحصیل سے اولیٰ ہے ، پس جب مفسدہ اور مصلحت میں تعارض ہوجائے، تو دفع ِمفسدہ کو مقدم کیا جائے گا؛کیوں کہ شریعت میں منہیات کے سلسلے میں اہتمام ، مامورات کے اہتمام سے زیادہ سخت ہے؛ اسی لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ : ’’جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں ، تو حسبِ استطاعت اس کو بجا لاؤ اور جب میں تم کو کسی بات سے منع کروں ، تو تم اس سے بالکل بچو!‘‘ اور کشف میں ایک حدیث لکھی ہے کہ ’’اللہ کی منع کردہ چیزوں میں سے ایک ذرے کا ترک کردینا، جن و انس کی عبادت سے افضل ہے ‘‘ اور اسی لیے دفعِ مشقت کے لیے ترکِ واجب تو جائز ہے؛ ------------------------- (۲) الأشباہ والنظائر:۱/۲۹۰