ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
واقعی اور اصلی صورت سے غیر جانب دار لوگوں کو روشناس کرایا جائے۔ لیکن سوال وہی ہے، جو اوپر پیش کیا گیا کہ کیا اس کے ذریعے واقعی اسلام اور اہلِ اسلام کی یہ خدمت انجام پا تی ہے؟ اور کیا اس کے سوا کوئی واضح اور غیر مشکوک راستہ اس کے لیے نہیں ہے؟ اور کیا وہ سارے راستے اس کام کے لیے کام میں لا ئے جا چکے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ جب تک ان سوا لات کو حل نہیں کر لیا جائے گا ،اس قسم کے’’ چینل‘‘ کی بات محض ایک ’’ دل بہلانے ‘‘ کی بات ہوگی ،جس پر احکامِ شرع کا مدار نہیں رکھا جا سکتا ۔ بعض معاصر علمانے مسلمانوں کے ’’ٹی- وی چینل‘‘ (T.V Channel) کی ضرورت کا لحاظ کرتے ہوئے ، اس کے جواز کا ایک عجیب راستہ نکالنے کی کوشش کی ہے ، وہ یہ کہ ’’ جب جان و مال کی دنیوی ضرورت کے تحت پاسپورٹ وغیرہ کے لیے فوٹو کی اجازت ہے، تو حفاظت ِدین کی ضرورت کے لیے بھی اس کی اجازت ہونا چاہیے ؛اس لیے کہ اس کی اجازت دینے میں ایک حرام کے ارتکاب کا مفسدہ ہے اور اس سے ممانعت میں بہت بڑے طبقے کے دینی دعوت سے محروم ہو جانے کا بڑا اور عام مفسدہ ہے ؛ لہٰذا’’ أھون البلیتین ‘‘ کو اختیارکرتے ہوئے، جواز کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔(۱) مگر یہ بات اصولِ فقہ کے خلاف ہے؛ کیوں کہ ------------------------- (۱) انٹرنیٹ اور جدید ذرائع ابلاغ ،مجموعہ مقالات مرتب : مولانا خالد سیف اللہ صاحب رحمانی: ۳۵