ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
¹یلی ویژÙ |
|
بھی معلوم ہو سکتا ہے؛ چناں چہ ہم ان صورتوں کو تصویر نہیں ، عکس اور پرچھائی مان لیں ، تودیکھنا یہ ہے کہ تصویر جن علتوں اور وجوہات کی بنا پر حرام قرار دی گئی ہے، ان میں سے سب یا بعض علتیں اس عکس میں تو نہیں پائی جاتیں ؟ اگر پائی جاتی ہوں ، تو ان صورتوں کو بھی تصویر کے حکم میں داخل ماننا ہوگا؛ اگر چہ یہ حقیقت میں عکس ہوں اور اگر ان میں وہ علتیں نہ پائی جائیں ، تو ان کو تصویر کے حکم سے خارج کہا جاسکے گا ۔ غور کرنے پر واضح ہوتا ہے کہ تصویر جن علتوں کی بنیاد پر حرام ہے، ان میں سے بعض علتیں ٹی- وی کے عکس(اگر ان کو عکس کہنا صحیح ہو) میں پائی جاتی ہیں ؛ چناں چہ تصویر کی حرمت کن وجوہ کی بنا پر ہے ؟ اس بارے میں ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ تعالی نے علامہ خطابی رحمہ اللہ تعالی کا قول نقل کیا ہے کہ ’’ تصویر بنانے والے کا عذاب اس قدر سخت اس لیے ہے کہ تصاویر اللہ کو چھوڑ کر پوجی جاتی ہیں اور ان کی طرف دیکھنا فتنے میں ڈالتا ہے اور بعض نفوس ان کی طرف میلان کرتے ہیں ۔ (۱) اس سے معلوم ہوا کہ تصویر کو تین وجہ سے حرام قرار دیا گیا ہے: ۱- شرک کا سبب ہونے کی وجہ سے ۔ ۲- لوگوں کے فتنے میں مبتلا ہونے کی وجہ سے۔ ۳- نفوس کے ان کی طرف میلان کرنے کی وجہ سے ۔ اور حرمت کی یہ تینوں وجوہات ٹی- وی کے پردے پر نظر آنے والی صورتوں میں بہ وجہ ِاتم پائی جاتی ہیں ؛ چناں چہ تصویر کا پوجاجا نا سب کو معلوم ہے اور آج شرک کا ایک بڑا ذریعہ یہی ہے ۔ ------------------------------- (۱) فتح الباري شرح البخاري : ۱۰؍ ۳۸۴