معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
بھی وہی ہے… یعنی موت …اورپھراس کے بعدقبرکی تنہائی…نیزیہ کہ جلدیابدیر آخر کبھی نہ کبھی توبچوں کیلئے بھی اس دنیائے فانی سے کوچ اوررخصتی کاوقت آہی جائے گا، اور اس وقت خواہ ان بچوں کی عمر کچھ بھی ہو، خواہ اس وقت یہ بوڑھے ہی کیوں نہ ہوچکے ہوں ، لیکن بہرحال ہوں گے تویہ آخرہمارے ہی بچے ، اورجیساکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : (اَلْقَبْرُ رَوْضَۃٌ مِنْ رِیَاْضِ الْجَنَّۃِ أَوْ حُفْرَۃٌ مِنْ حُفَرِ الْنَّاْرِ)(۱) ترجمہ : (قبرجنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یادوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھاہے)
یعنی کسی کیلئے قبرجنت کاایک حصہ ہوگی اورکسی کیلئے قبرہی دوزخ ہوگی، ہمارے یہ معصوم اورپھول جیسے بچے اوریہ ہمارے جگرگوشے جن کے آرام وراحت کی خاطرآج ہم کس قدرفکرمندرہتے ہیں ، اورخصوصاً یہ معصوم بچے دن بھرکھیل کوداوراپنی معصومانہ شرارتوں کے بعدرات کوجب اپنے چھوٹے سے تکیے پرسررکھے ہوئے سورہے ہوتے ہیں اس وقت کتنے پیارے لگتے ہیں اورہمیں ان پرکس قدرپیارآرہاہوتاہے…اس وقت ہمیں یہ بھی سوچناچاہئے کہ ہمیں اچھا لگے یابُرالگے مگریہ کہ یقینا کبھی نہ کبھی وہ وقت بھی آہی جائیگا جب ہمارے یہی لختِ جگراوریہ ہماری آنکھوں کے نوراوردل کے سروراسی طرح اپنی قبرمیں سورہے ہونگے … نہ جانے وہ کون سی جگہ ہوگی اورکون ساشہراورملک ہوگا؟اوراللہ ہی جانے وہ قبران کیلئے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگی… یا… خدانخواستہ… بس آگے توکچھ لکھتے ہوئے بھی خوف محسوس ہوتاہے… اللہ ہم سب پررحم فرمائے،آمین۔ اوراسی جذبے کے تحت ہمیں اپنی اولادکی اصلاح اورمناسب اخلاقی تربیت کیلئے فکراور کوشش کرنی چاہئے، جیساکہ قرآن کریم میں ارشادہے : {یَاْ أَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُواْ قُواْ
------------------------------
(۱)ترمذی[۲۴۶۰]