معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
لَبّیک…) یہاں تک کہ ان سب کی غرض وغایت ٗان کی نیت وخواہش اوران کامطلوب ومقصودبھی صرف ایک ہی ہواکرتاہے،یعنی گناہوں سے مغفرت ومعافی اوراپنے خالق ومالک کی رضامندی وخوشنودی کاحصول…! ان کے حلیہ ولباس میں بھی یگانگت ومساوات ٗاعمال میں بھی یگانگت ومساوات ٗزبان پرجاری کلمات میں بھی یگانگت ومساوات ٗحتیٰ کہ نیتوں اورنصب العین میں بھی یگانگت ومساوات…!! اس سے بڑھ کر’’مساوات‘‘کی کوئی مثال پیش کرنے سے یہ دنیایقیناعاجزوقاصرہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’اسلامی مساوات‘‘ایک ایسی انمول اوربے مثال نعمت ہے کہ جس کیلئے دوسرے مذاہب کے پیروکارترستے ہیں اورمسلمانوں پررشک کرتے ہیں۔ چنانچہ مشہورفرانسیسی فلسفی ’’رینان‘‘کاقول ہے کہ :’’مجھے جب بھی مسلمانوں کی کسی مسجدمیں جانے کااتفاق ہواتواُس موقع پرہمیشہ ایک عجیب سی کیفیت مجھ پرطاری ہوگئی اورمیں نے اپنے دل میں یہ حسرت محسوس کی کہ کاش میں بھی مسلمان ہوتا‘‘۔ اسی طرح مشہورومعروف فلسفی پروفیسرآرنلڈنے اپنے جذبات کااظہارکرتے ہوئے تحریرکیاہے کہ:’’ میں وہ منظرکبھی فراموش نہیں کرسکتاجب میں نے ہندوستان میںدہلی کی جامع مسجدمیں ہزاروں مسلمانوں کوماہِ رمضان کے آخری جمعہ (جمعۃ الوداع)کے موقع پر انتہائی خشوع وخضوع کی کیفیت میں نمازِجمعہ اداکرتے دیکھا،نمازکے دوران ان کی ایک ایک حرکت سے اللہ کے سامنے انتہائی عجزوانکسارکااظہارہورہاتھا،اوریہ منظرہردیکھنے والے کے شعورووجدان میں پیوست ہوتاچلاجارہاتھا…!‘‘ (۱) ------------------------------ (۱) مزیدتفصیل کیلئے ملاحظہ ہو:العبادۃ فی الاسلام۔از:یوسف القرضاوی۔ نیز:الاسلام ؛ أثرہ فی الحضارۃ وفضلہ علیٰ الانسانیۃ۔از: ابوالحسن علی الندوی۔