معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
نہیں ہے، ان میں سے ایک شخص تو[اس لئے عذاب میں مبتلاہے کہ]چغلیاں کیا کرتا تھا، جبکہ دوسراشخص پیشاب سے بچنے کااہتمام نہیں کرتاتھا) (۱) (۲) نیزرسول اللہ ﷺکاارشادہے:(شِرَارُ عِبَادِ اللّہِ : المَشَّاؤونَ بِالنَّمِیمَۃِ ، المُفَرِّقُونَ بَینَ الأحِبَّۃِ ، البَاغُونَ لِلبُرَئَ ا ئِ العَنَتَ) (۳) ترجمہ:(اللہ کے تمام بندوں میں سے بدترین لوگ وہ ہیں جوکہ[ لوگوں کے درمیان]چغلیاں کرتے پھرتے ہیں،باہم محبت کرنے والوں میں جدائی اوردوریاں پیداکرتے ہیں،اوربیگناہوں پرجھوٹاالزام لگانے کیلئے موقع کی تلاش میں رہتے ہیں)۔ ٭… اس سلسلہ میں مزیدیہ بات بھی یادرکھنے کی اشدضرورت ہے کہ کسی کی زبانی دوسروں کی چغلی یاغیبت سُن کرخوش ہونے یااسے محض کھیل تماشایا تفریحِ طبع کاذریعہ سمجھنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ یہی شخص جوآج ہمارے سامنے دوسروں کے عیوب بیان کررہاہیٗ کل ضروربضرور دوسروں کے سامنے ہمارے عیوب بھی بیان کریگا۔مثال مشہورہے: مَن نَمّ لَکَ نَمّ عَلَیکَ یعنی تمہارے سامنے دوسروں کی چغلی کرنے والایہاں سے اٹھکرجب کسی دوسری محفل میں جائیگاتویقیناوہاں تمہاری چغلیاں کرے گا۔ ------------------------------ (۱)اس حدیث میںکسی روایت میں : لایستنزہ اورکسی میں: لایستبریٔ کے الفاظ واردہوئے ہیں۔جبکہ ایک اور روایت میں: لایستتر کے الفاظ ہیں ،جوکہ’’ستر‘‘سے ہے،یعنی وہ شخص پیشاب کرتے وقت لوگوں کی نگاہوں سے چھپنے کااہتمام نہیںکیا کرتاتھا۔ ملاحظہ ہو: دلیل الفالحین لطرق ریاض الصالحین۔از:محمدبن علان الصدیق الشافعی۔ج:۸۔ص:۲۹۔باب تحریم النمیمہ۔ (۲) یعنی وہ کوئی ایسی بہت بڑی مشکل بات نہیں تھی کہ جس سے بچناان دونوں کیلئے بہت مشکل کام تھا، بلکہ وہ توبہت ہی معمولی اورآسان سی بات تھی کہ اگریہ اس سے بچناچاہتے توبسہولت بچ سکتے تھے ، مگرانہوں نے اس سے بچنے کی فکراورکوشش ہی نہیں کی ،جس کے نتیجہ میں اب یہ دونوں اپنی اپنی قبرمیں بڑے عذاب میں مبتلاہیں۔ (۳)احمد[۱۸۰۲۷]