معاشرتی آداب و اخلاق ۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں |
وسٹ بکس |
|
ترجمہ:(اورتیرارب صاف صاف حکم دے چکاہے کہ تم اس کے سواکسی اورکی عبادت نہ کرنااورماں باپ کے ساتھ احسان کرنا،اگرتیری موجودگی میں ان میں سے کوئی ایک یایہ دونوں بڑھاپے کوپہنچ جائیںتوان کے آگے اف تک نہ کہنا،نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا،بلکہ ان کے ساتھ ادب واحترام سے بات چیت کرنا،اورعاجزی ومحبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کابازوپست رکھے رکھنا،اوردعاء کرتے رہناکہ:’’ اے میرے رب!ان پرویساہی رحم کرجیساانہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے‘‘)۔ یہاں یہ بات قابلِ غورہے کہ اس آیت میں اولاً تواللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے انسان کواپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ٗنیزان کیلئے دعاء مانگتے رہنے کاحکم دیاگیاہے،اوریہ کہ اللہ کی طرف سے دعاء بھی خودہی سکھادی گئی،پھرمزیدیہ کہ اس دعاء میں ایسے الفاظ کاانتخاب کیاگیاہے جس سے انسان کواپنے بچپن کادوریادآجائے،اورانسان چشمِ تصور سے اس منظرکودیکھے جب وہ کمزوروناتواں تھا،اٹھنے بیٹھنے کی سکت بھی نہیں تھی،کھانے پینے ٗ جسمانی صفائی وغیرہ ودیگرتمام معاملات میں اسے والدین کی مکمل احتیاج تھی،والدین ہمیشہ ہنسی خوشی اس کی تمام ضروریات پوری کرتے رہے،خودروکھی سوکھی کھاکرگذارا کیا مگراس کیلئے عمدہ خوراک کاانتظام کیا،خودجولباس میسرآیازیب تن کرلیامگراس کیلئے حتیٰ المقدورمناسب پوشاک کابندوبست کیا،اگرکبھی وہ بیمارپڑجاتاتواس کے والدین انتہائی بیتابی وبیقراری کے عالم میں رات بھراس کے سرھانے کھڑے رہتے مگراف تک نہ کرتے، اورپھرصبح ہونے پربچہ اگرایک بارمسکراکران کی طرف دیکھ لیتاتووہ یہ سوچ کردیوانہ وار اپنے پروردگارکاشکربجالاتے کہ بچے کی طبیعت اب بہترہے…اوربچے کی محض اس ایک مسکراہٹ کی وجہ سے وہ اپنی رات بھرکی تمامترتھکاوٹ اورپریشانی کوبھول جایاکرتے تھے،