پریشانی لاحق ہوئی تھی وہ دیکھتے دیکھتے دور ہوگئی اور اعتماد و استقرار کا عالم طاری ہوگیا ،اس صورتحال کو دیکھ کر حضرت مولانا کا قلم پھر رک گیا کہ کام تو اس مناظرہ سے بن گیا ،اب اپنا عزیز وقت ان بے مصرف مسائل میں لگانے سے کیا حاصل ،حضرت گنگوہی کو جب معلوم ہوا کہ حضرت مولانا کا خیال اب تفصیلی مطالعہ اور مفصل و مدلل جواب کا نہیں رہا تو آپ نے تحریر فرمایا۔
’’جو کام للّٰہی طور پر شروع کر دیا گیا ہے اس کو اتمام تک پہونچانا ہی مناسب ہے ناتمام چھوڑنا مناسب نہیں اور جس کام کی ابتداء نیک نیتی کے ساتھ بغرض حمایت اسلام کی گئی ہے اس کا انجام بخیر ہے تحریر کو پورا کردینا ہی مناسب ہے۔‘‘(ہدایات الرشید:۶۔۷)
اپنے شیخ و مرشد کے حکم پر حضرت مولانا نے ذہن و قلم کو تیار کیا اور پھر جو کتا ب لکھنے کا کام شروع کیا تو پورے انہماک ،دلچسپی اور ذوق و شوق سے سات ماہ تک کتاب لکھتے رہے اور اس کو پایہ تکمیل تک پہونچا کر چھوڑا ۔حضرت مولانا نے اس کتاب کا نام ’’ہدایات الرشید الی افحام العنید ‘‘رکھا،کتاب کے شروع میں تفصیل سے ان واقعات کا ذکر کیا جو اس کی تصنیف کا سبب بنے اس کے بعد بطور انتباہ کے چند صفحے تحریر فرمائے اور اس کی معذرت کی کہ اس کتاب میں جابجا شیعہ علماء کے اقوال اور کتب شیعہ کی عبارتیں ایسی آئیں ہیں جن سے خلفاء ،ثلثہ اوراصحاب کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم اجمعین کی شان عالی میں تنقیص ہوتی ہے مگر یہ ضرور تانقل کیے جائیں گے اورنقل کفر کفر نباشد کے مطابق یہ کا م خلاف عقیدہ اور خلاف ضمیر کیا جائے گا پھر حضرت مولانا نے اپنے عقیدہ کا اظہار کیا اور شیعت و خارجیت یا ناصبیت کی افراط و تفریط پر تنقید فرمائی اور صحابہ کرام و اہل بیت عظام سے یکساں محبت و عقیدت اور ان دونوں کے خلاف ادنی بھی تنقید کو خلاف ایمان و عقیدہ بتلایاہے۔
میر فرزند حسین احمد صاحب نے اپنے جواب میں مطالبہ کیا تھا جو صاحب بھی اس مسئلہ پر قلم اٹھائیں وہ کسی شیعی عبارت کا حوالہ کسی دوسری کتاب سے نہ دیں بلکہ براہ راست شیعی کتب سے نقل کریں اور یہ اس لئے مطالبہ کیا گیا تھا کہ شیعی کتب کا ملنا آسان نہ تھا وہ نایاب بھی تھیں اور کمیاب بھی مگر حضرت مولانا نے ایک طرف ذہن رسا بھی پایاتھا اور دوسری طرف حافظہ اور مطالعہ بھی ،آپ نے نایا ب سے نایاب کتب شیعہ کو فراہم کیا انکا بغور مطالعہ کیا اور اس مسئلہ پر جو تحریر لکھی وہ مکمل اور مدلل لکھی اور مسکت جواب تحریر فرمایا ۔
۱۴ِجمادی الاولیٰ ۱۳۰۴ھ کو اس کتاب کی تکمیل ہوئی اس پر بعض اہل فضل و کمال نے تقریظیں لکھیں۔
بھاولپور کے قیام کے اسی دور میں مدرسہ دینیات میں جہاں آپ صدر مدرس تھے ایک اعلیٰ افسر بنکر ایک شیعہ آئے جن کا نام ’’چراغ شاہ‘‘ تھا وہ بات بات پر ہر ملاقات میں آپ سے مذہبی گفتگو کرتے اور بال کی کھال نکالتے اول اول آپ جوابات دیتے رہے مگر وہ افسری گھمنڈ میں آپ کو ایسے مقام پر لانا چاھتے کہ انتقام لیں،عاجز آکر آپ نے اہل حکومت سے مل کر دوسرے شعبہ میں اپنے کو تبدیل کرالیا اور پھر جب تک یہ کتاب لکھنے لگے اور چراغ شاہ کو اس کی خبر ہوئی تو وہ اور چراغ پا ہوئے اس کتاب نے ردشیعیت میں جو کام کیا وہ کم کسی اور کتاب نے کیا ہے،مولانا عاشق الٰہی صاحب اس کی بابت لکھتے ہیں۔
’’یہ بے نظیر کتاب اس مبحث میں حضرت کی بہترین یاد گار اور اس کی چٹکیاں لینے والی،دلچسپ عبارت آپ کی نوجوا ن طبیعت کا مجسمہ