فرمودہ کیا ہے۔ سنت کیا ہے۔ بدعت کیا ہے اپنے ہی تراشیدہ خیالات اور ادھر ادھر کی باتوں پر مائل ہو رہے ہیں۔ ایسے خطرناک مشرب اور مذہب نکالے اور ان پر سرنگوں ہو رہے ہیں کہ اسلام اور مسلمانی ان پر دور سے دیکھ کر ہنستی اور روتی ہے۔ گویا اسلام کے لباس میں ہزاروں ہزار نئے مذہب نکلے ہوئے ہیں۔ اور اس سے دشمنان دین کو دین حق پر اعتراض اور طعن کا پورا موقع ملتا ہے ان لوگوں کو حس تک نہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کی کیا حالت ہوئی ہے۔ اور اسلام کے بیرونی دشمن اسلام پر کیا کیا خوفناک حملہ کر رہے ہیں اور تلے ہوئے ہیں۔ کہ اس کا شہتیر ہی نکال ڈالا جائے۔ غرض قوم ان کی غفلت کی وجہ سے تباہ ہو رہی ہے۔ اور بزبان حال خدا سے چاہتی ہے۔ کہ کوئی مصلح آئے وغیرہ وغیرہ بیان کرکے فرمایا۔ اس وقت کا مصلح و امام و مجدد اور مہدی جس کا تیرہ سو برس سے انتظار تھا اور مسیح موعود جس کی حدیثوں اور قرآن میں پیشگوئی تھی اللہ تعالیٰ نے مبعوث کیا وہ کون ہے۔ حضرت امام اقدس ہمام مرزا صاحب حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ہے۔ جس کے اوصاف حمیدہ کو میری زبان بیان نہیں کرسکتی خطبہ ختم ہوا نماز جمعہ ادا ہوئی۔
رات ہوگئی ہے۔ اندھیرا ہو رہا ہے ایک شخص دراز قد سر سے پائوں تک چادر لپیٹے ہوئے چکلہ میں جا رہا ہے۔ ایک دروازہ پر ٹھہرا اور آواز دی جیواں۔ جیواں کیواڑ کھلے۔
جیواں کون؟ مولوی! اب تک کہاں تھا۔
مولوی… آج مجھ کو کام ہوگیا تھا۔
جیواں… تو بڑا بے حیا اور بے شرم ہے۔ تجھ کو شرم نہیں آتی۔ کہیں بختاوری چوھڑی سے گالیاں کھاتا ہے۔ کہیں موچنوں سے، تو آدمی ہے۔ یا بالو گڈھ کے اشہد کا سانڈ ایک سے بس، نہ دو سے بس، نہ چار سے، گھر میں عورت موجود ہے ایک بازاری رنڈی سے ملاقات پھر موچنوں اور رسی والیوں اور کس کس کو گنوائوں۔
مولوی… یوں ہی تجھ سے کوئی جھوٹ لڑائی کرانے کی خاطر کہہ دیتا ہے اور تو اس کی باتوں میں آ جاتی ہے۔ خدا کی قسم بالکل جھوٹ ہے میں نے تو جب سے مرزا صاحب سے بیعت کی ہے بالکل توبہ کرلی ہے۔
جیواں… یہاں کیا تہجد پڑھنے آیا ہے۔ یا قرآن پڑھانے، چل دفع ہو۔ میرے گھر نہ آیا کر منہ جھلس دوں گی۔ جو پھر میرے گھر میں پیر رکھا یہ بات مجھ کو گوارانہیں۔
مولوی… آگئے نہ دم میں بیوقوف یہ لوگ لڑائی کے واسطے کہہ دیتے ہیں۔ خیر مولوی صاحب نے وہ رات وہاں کاٹی۔