ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
کیا اس کا اسلام سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق ہو سکتا ہے ؟ اور کیا اسلام میں جس کا لطیف مزاج ہم نے اوپر دیکھا ہے) اس کی کوئی ادنیٰ سی بھی گنجائش ہو سکتی ہے؟ یہاں یہ سوال قطعاً غیر ضروری ہے کہ ٹی- وی پر نشر ہونے والی صورتیں عکس کے حکم میں ہیں یا تصویر کے ؟ کیوں کہ بہ ہر صورت یہ پروگرام اسلام کے مزاج سے غیر آہنگ ومتصادم ہے اور اس کی تعلیمات کے یکسر منافی اور خلاف ہے،خواہ ان صورتوں کو عکس قرار دیا جائے یا تصویر ،جو اس پر نشر ہوتی ہیں ۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ ان فحش وعریاں صورتوں کو دیکھ کر اور ان کی دل فریب (اور صاحب ِعقلِ سلیم کے نزدیک دل خراش)ادائوں کو ملاحظہ کرکے ، دیکھنے والوں کے جذبات بھڑکیں گے اور برائی وفحش کاری کی طرف میلان ورجحان پیدا ہوگا اور جن برائیوں کا راستہ اسلام پوری طرح بند کرنا چاہتا ہے ، صرف یہی نہیں کہ کھل جائے گا؛بل کہ وسیع سے وسیع تر ہوجائے گا ۔ خاص طور پر عورت کو اپنی تمام تر خوب روئیوں اور رعنائیوں اور دل فریبیوں اور ادا کاریوں کے ساتھ پردے (Screen) پر پیش کرنا -غور کرنے کی بات ہے - کہاں تک اسلامی مزاج سے میل کھاتا ہے ؟ کیا ان باتوں سے وہ فتنے ابھر تے نظر نہیں آتے، جن کی بندش کے لیے اسلام نے فحش وبے حیائی کے مقدمات ودواعی کو بھی حرام کر دیا ہے؟ غرض یہ کہ وہ پروگرام، جس میں فحش وبے حیائی کے مناظر ہوں ، وہ کسی طور پر بھی جائز قرار نہیں پاسکتا؛بل کہ یہ قطعی طور پر حرام وناجائز ہے۔