ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
قرار دیا جاسکتا ہے؟ اس سلسلے میں یہ بھی سنتے چلیے کہ ٹی- وی کے پردے پر کیا کچھ نہیں دکھایا جاتا ہے ، ایک خبر پڑھتے جائیں : ’’ لندن ۵ ؍ فروری ۱۹۵۷ء گذشتہ شب برطانیہ کے ’’ٹیلی ویژن‘‘ دیکھنے والوں کو ایک ایسی فلم دکھائی گئی،جس میں ایک ’’بچے کی پیدائش‘‘ کا پورا منظر دکھایا گیا،اس ملک کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے، جب ’’بچے کی پیدائش ‘‘ٹیلی ویژن پر دکھا ئی گئی ،یہ فلم برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریش(B.B.C)کے ایک مسلسل پروگرام کے سلسلے میں دکھائی گئی، جس میں ڈاکٹروں اور ماؤں نے ’’قدرتی پیدائش ‘‘ پر مذاکرہ کیا تھا ۔(۱) ایک دوسری خبر پڑھیے: ’’ اسٹاک ہام ،۱۷؍دسمبر ۱۹۶۵ ء کل شب’’ ٹیلی ویژن‘‘ کے پردے پر ایک امریکی جوڑے کو برہنہ رقص کرتے دکھا یا گیا ۔اس نمائش کے خلاف ٹیلی فون کے ذریعے سخت احتجاج کیا جارہا ہے؛ لیکن ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ ننگے ناچ کی یہ نمائش اعلی سطح پر صلاح و مشورے کے بعد کی گئی ہے ۔ اس پروگرام میں چار ایکٹروں (Actors) اور تین ایکٹرسوں (Actress) کو دکھایا گیاجنہوں نے تماشائیوں کے سامنے بڑی نفاست سے اپنے لباس کا ایک ایک تار جسم سے اُتار کر ڈھیر لگادیا۔ (۲) ------------------------- (۱) فریب ِتمدن،تالیف اکرا م اللہ ، ایم،اے :ص:۱۳۸ (۲) فریب ِتمدن، :ص:۱۳۸