ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
امور پر روشنی پڑتی ہے : ۱- ایک تو اس بات پر کہ ٹیلی ویژن کے پردے پر نظر آنے والے مناظر دو مرحلوں سے گزارے جاتے ہیں ، ایک مرحلے میں وہ کیمرے میں تصویر کی شکل میں اُتارے جاتے ہیں اور دوسرے مرحلے میں ان کو (scanning) کے ذریعے برقی ذرات میں تبدیل کیا جاتا ہے ۔ ۲-دوسرے اس بات پر کہ یہ (scanning) کا کام نہایت تیزرفتاری کے ساتھ ہوتا ہے اور ایک سکنڈ میں متعدد دفعہ اس مرحلے سے تصویر کو گزارا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ممکن ہے کہ تصویر کا کیمرے میں اُتارا جانا محسوس نہ کیا جائے۔ ۳- ایک بات یہ بھی اس سے معلوم ہوتی ہے کہ’’ ٹیلی ویژن‘‘ کے لیے استعمال کیے جانے والے کیمرے اسی قسم کے ہوتے ہیں ،جو’’ اسٹوڈیو ‘‘ میں استعمال کیے جاتے ہیں اور وہی کام بھی وہ انجام دیتے ہیں جو’’ اسٹوڈیو‘‘ کے کیمروں کا کام ہے ۔ ۴-ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ ان کیمروں کے ذریعے جو تصویر لی جاتی ہے، وہ فلم کی طرح اُلٹی ہوتی ہے، جس کو اسکیان(Scan) کرکے اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ منظر کشی کے کام آئے ۔ یہ تمام امور وہ ہیں ،جو اوپر دی ہوئی تفصیلات سے واضح طور پر معلوم ہوتی ہیں اور ’’ٹیلی ویژن ٹکنالوجی‘‘ سے متعلق کتابوں میں مذکور ہیں ، اب اس پر غور کیجیے کہ جو صورتیں ٹی- وی کے پردے پرظاہر ہوتی ہیں ،وہ بہ ہر صورت ’’ٹی- وی کیمرے‘‘ کی مدد اور اس کے واسطے ہی سے ظاہر ہو تی ہیں اور وہ کیمرے اولا ً منظر اور سین(Seen) کی اُلٹی