ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
ترجمہ: میں گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی ،بسا اوقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لاتے اور میرے پاس کھیلنے والی لڑکیاں ہوتی تھیں ، پس جب آپ تشریف لاتے، تو وہ باہر چلی جاتیں اور جب آپ باہر جاتے، تو وہ اندر آجاتیں ۔(۱) ۲- حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم غزوۂ تبوک یا خیبر سے واپس آئے، تو میرے طاق پر پردہ پڑا ہوا تھا ،اتفاقاً ہوا چلی، جس نے پردے کا ایک حصہ کھول دیا جہاں سے وہ گڑیاں نظر آگئیں ، آپ نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میری گڑیاں ہیں اور آپ نے ان کے بیچ میں ایک گھوڑا دیکھا، جس پر کاغذ کے دو پر لگے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا کہ یہ گھوڑا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس گھوڑے کے اوپر کیا لگے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ دو بازو ہیں ، آپ نے تعجب سے فرمایا کہ کیا گھوڑے کے بازو بھی ہوتے ہیں ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے عرض کیا کہ کیا آپ نے سنا نہیں کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑوں کے پر لگے ہوئے تھے؟ یہ سن کر آپ کو ہنسی آگئی ، یہاں تک کہ میں نے آپ کے دندانِ مبارک دیکھے۔(۲) ان احادیث کے پیش ِنظر بعض علما اس طرف گئے ہیں کہ بچوں کے کھلونے اور گڑیاں اگر تصاویر پر مشتمل ہوں ، تو ان کی اجازت ہے اور عمومِ نہی سے ان کو مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ تعالی نے اسی پر جزم کیا ہے اور اسی کو جمہور کی جانب سے نقل کیا ہے اور ان حضرات نے کہا ہے کہ لڑکیوں کو اس کی اجازت اس -------------------------- (۱) أبو داؤد:۴۹۳۱ (۲) أبو داؤدکتاب الأدب۴۹۳۲