ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
جائے گا کہ’’رقم ‘‘ یعنی نقش کے استثناسے مراد وہ تصویر ہے ،جو غیر ذی روح چیزوں کی ہو، جیسے درخت وغیرہ کی تصویر۔(۲) اسی طرح علامہ خطابی رحمہ اللہ تعالی کے حوالے سے علامہ عینی رحمہ اللہ تعالی نے عمدۃ القاري میں نقل کیا ہے۔(۳) ۲- حافظ رحمہ اللہ تعالی نے اس کا دوسرا جواب بہ طور ِاحتمال یہ دیا ہے کہ یہ نقش والی تصویر کا جائز ہونا حرام ہو نے سے قبل کا حکم ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اجازت پہلے تھی ، بعد میں باقی نہیں رہی ۔(۱) حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالی نے اس سلسلے میں فرمایا کہ ’’ اس حدیث میں تصاویر سے ایک استثنا بہ لفظ ’’ رقم في ثوب ‘‘ مذکور ہے ، فتح الباري میں نووی رحمہ اللہ تعالی سے اور عمدۃ القاري میں خطابی رحمہ اللہ تعالی سے نقل کیا ہے کہ’’ رقم ‘‘ سے مراد بے جان چیزوں ؛ درختوں وغیرہ کے نقوش و اشکال ہیں ، عربی لغت کے اعتبار سے بھی یہی لفظِ رقم اس معنے کے لیے مستعمل ہوتا ہے ۔ لسان العرب اور قاموس میں لفظ’’ رقم ‘‘کے یہی معنے لکھے ہیں : ’’الرقم ضرب لخطط من الوشي ‘‘ (یعنی رقم دھاری دار منقش کپڑے کو کہتے ہیں ) زرقانی رحمہ اللہ تعالی نے شرحِ مؤطا میں ’’ رقم ‘‘ کا ترجمہ ’’نقشا ووشیا ‘‘ سے کیا ہے ۔ (۲) اور علما کو اس حدیث میں اس طرح کی تاویل کی ضرورت اس لیے پڑ رہی ------------------------- (۱) فتح الباري: ۱۰؍۳۷۷ (۲) شرح المسلم :۲؍۲۰۰،فتح الباري: ۱۰؍۳۹۰ (۳) عمد ۃ القاري:۱۵؍۱۲۹