ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
یلی ویژ |
|
کاموں کے لیے ہو، تو ناجائز ہے اور اس قسم کے آلات کی خرید وفروخت اور مرمت وغیرہ کاکام جائز ہے اور اگر ان کو کسی نے ناجائز کام کے لیے استعمال کیا، تو وہ خود اس کا ذمہ دار ہے ؛کیوں کہ ان کا استعمال جائز کاموں کے لیے بھی ہوتاہے اور ناجائز کاموں کے لیے بھی، تو ہر آدمی خود اپنے کیے کا ذمہ دار ہوگا ۔ اب آئیے اس مسئلے کی جانب جس کے بارے میں سوال کیا گیا ہے ، یعنی ’’ٹی-وی کی مرمت‘‘ ، ہم جب اس آلے پر غور کرتے ہیں ، تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ عموماً غلط اور شرعاًناجائز کاموں کے لیے ہی استعمال ہوتاہے جیسا کہ ہم نے اپنے رسالے میں اس کو دلائل سے ثابت کیا ہے ؛ کیوں کہ اس کے ہر پروگرام میں کم از کم جان دار کی تصاویر تو ہوتی ہیں ،جو کہ اسلام میں ناجائز ہیں اور اس کے بغیر کوئی پروگرام ہوتا ہی نہیں ،جب اس کا استعمال صرف اور صرف ناجائز کاموں کے لیے ہے، تو اس کی مرمت اور خرید و فروخت کا حکم معلوم ہوگیا کہ’’ ناجائز ‘‘ہے۔اور اس اصول سے ریڈیو کی مرمت کا اور اسی طرح کمپیوٹر کی مرمت کا حکم معلوم ہوگیا کہ یہ جائز ہے؛کیوں کہ یہ آلات ایسے ہیں ، جن کو دونوں طرح کے کاموں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ؛اس لیے ان کی خرید و فروخت بھی جائز اور ان کی مرمت کا کام بھی جائز ہے ۔ ہاں ! اگر کسی نے ان کا استعمال غلط کام کے لیے کیا، تو وہ خود اس کا ذمہ دار ہوگا ، بیچنے والا یا مرمت کرنے والا اس کاذمہ دار نہ ہوگا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ ٹی- وی کی مرمت کاکام کرنا اسلام کی رو سے جائز نہیں ، اس لیے آپ کو چاہیے کہ اس کام کو ترک کر کے کوئی جائز کام تلاش کریں ،