ٹیلی ویژن اسلامی نقطہ نظر سے |
¹یلی ویژÙ |
|
ہوں ،کیا اسلام میں اس کام کی اجازت ہے ؟ اور اگر نہیں ، تو میں کیا اس کام کو چھوڑدوں ؟ اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں ؟ الجواب:ٹی -وی چوں کہ ناجائز ہے؛اس لیے اس کی مرمت کا کام بھی ناجائز ہے۔ شریعت ِاسلامیہ نہایت لطیف المزاج ہے؛ اس لیے وہ کسی حال میں بھی اس کی گنجائش نہیں دیتی کہ جو چیز ناجائز ہے، اس کو دنیا میں فروغ ہواوراس کے لیے راہیں ہموار ہوں اور ظاہر ہے کہ ٹی- وی کی مرمت کا کام جب کوئی کرے گا تو، ٹی-وی کا رواج ختم نہیں ہوگا؛بل کہ اس رواج میں مدد ملے گی ،اس لیے جو چیز شرعاً ناجائز ہو، اس کی مرمت کی بھی اجازت نہ ہوگی۔ یہاں بہ طور ِافادہ ایک بات عرض کر دینا مناسب ہوگا ، وہ یہ کہ آلات تین قسم کے ہو تے ہیں : ایک وہ جن کا استعمال طاعت و نیکی یا جائز کاموں کے لیے مخصوص ہے ،دوسرے : وہ جن کا مقصد اور منشایا ان کا استعمال صرف اور صرف برائی اور غلط کاری کے لیے ہوتا ہے اور تیسرے: وہ جو طاعت و نیکی اور برائی و غلط کاری دونوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔ پہلی قسم کے آلات کا حکم واضح ہے کہ ان کا استعمال جائز ہے اور ان کی خرید و فروخت بھی جائز ہے اور ان کی مرمت وغیرہ کاکام بھی درست ہے۔ اور دوسری قسم کے آلات کا حکم یہ ہے کہ ان کا استعمال ناجائز ہے اور ان کی خرید وفروخت بھی ناجائز ہے اور ان کی مرمت وغیرہ بھی ناجائز ہے؛کیوں کہ یہ صرف اور صرف ناجائز کاموں کے لیے مخصوص ہیں اور تیسری قسم کے آلات کا حکم یہ ہے کہ ان کا استعمال نیکی و طاعت یا جائز کاموں کے لیے ہو، تو جائز ہے اور ناجائز