سکتا ہے، وہ دوسرا آدمی پہلے اپنی کنکری مارے پھر اس کی مارے لیکن اگر مرد یا عورت تندرست ہے صرف بھیڑ سے گھبرا کر یا پیدل چلنے کی تھکان کی وجہ سے دوسرے کوکنکری مارنے کے لیے کہہ دے تو جائز نہیں ہے، بلکہ اس کو خود کنکری مارنا ضروری ہوگا، اگر کسی دوسرے کو وکیل بنا دیا تو رمی نہ ہوگی اور دم واجب ہوگا (یعنی مکہ میں ایک قربانی کرنی پڑے گی) ۔ [کتاب المسائل:۳/۳۲۳]
دسویں تاریخ کا دوسرا کام
اب آپ کو قربانی کرنا ہے آپ کا حج تمتع ہے تو آپ پر قربانی واجب ہے (اسی طرح قران کرنے والوں پر بھی واجب ہے، البتہ افراد کرنے والوں پر واجب نہیں؛ مستحب ہے کرلیں تو اچھا ہے، نہ کریں تو کوئی حرج نہیں) یہ قربانی حج کے شکرانے کی ہے، اس کے علاوہ اگر آپ مقیم ہیں تو آپ پر جو سالانہ قربانی (صاحب نصاب ہونے کی حیثیت سے) ہے، وہ بھی کرنا ہے، البتہ! وہ قربانی آپ اپنے وطن میں بھی کرواسکتے ہیں۔ لہٰذا ۱۰؍ تاریخ کو رمی سے فارغ ہوکر بہتر تو یہ ہے کہ خود قربان گاہ پر جاکر اپنے ہاتھ سے اپنی پسند کا جانور وسعت کے مطابق خرید