کرنے والا) کلام اﷲ تعالیٰ واحادیث رسولﷺ سمجھتا ہوں۔ اگر میں اس بات میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر جو کسی کافر پر تونے آج تک نہ کی ہو۔
مرزاقادیانی نے بھی تین بار بآواز بلند کہا: ’’یا اﷲ! اگر میں ضال ومضل وملحد دجال وکذاب ومفتری ومحرف کتاب اﷲ واحادیث رسولﷺ ہوں تو مجھ پر وہ لعنت کر جو کسی کافر پر تونے آج تک نہ کی ہو۔‘‘
پھر دونوں فریق اپنے اپنے گھر واپس گئے۔ اس مباہلہ کا اثر یہ ہوا کہ اس کے بعد عبداﷲ آتھم عیسائی کا وہ انتہائی رسواکن واقعہ پیش آیا۔ جس سے مرزاقادیانی کی رہی سہی عزت بھی ختم ہوگئی۔ مرزاقادیانی کو حد سے زیادہ ذلت ہوئی۔ مولوی عبدالحق غزنوی کے حین حیات میں ۱۹۰۸ء میں مرزاقادیانی کا انتقال ہوگیا اور مباہلہ کا مولوی عبدالحق غزنوی پر یہ ہوا کہ مباہلہ سے پہلے مولوی صاحب کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ مباہلہ کے بعد شادی ہوگئی۔ نیک بیوی ملی۔ بیوی حاملہ ہوگئی۔ اولاد ہوئی یا نہیں ہمیں معلوم نہیں۔ مباہلہ سے پہلے مولوی صاحب بیمار رہتے تھے۔ مباہلہ کے بعد صحت ہوئی۔ باطنی نعمتیں اور فتوحات حاصل ہوئیں۔ جن کا وہ اجمالی طور پر ذکر کرتے تھے۔ مولوی عبدالحق غزنوی کی عمر میں اﷲ نے برکت دی۔ مرزاقادیانی کے بعد کامل نوسال تک زندہ رہے۔ ۱۶؍مئی ۱۹۱۷ء مطابق ۲۳؍رجب ۱۳۳۶ھ میں فوت ہوئے۔
عبداﷲ آتھم سے مناظرہ
۵؍جون ۱۸۹۳ء جب مرزاقادیانی کی عمر تخمیناً ۵۳برس کی ہوئی تو مشہور عیسائی مناظر عبداﷲ آتھم کے متعلق پیشین گوئی کی کہ: ’’وہ (یعنی عبداﷲ آتھم) پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھ کو ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسا ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دیا جاوے۔ ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔ میں اﷲ جل شانہ کی قسم کھاتا ہوں وہ ضرور ایسا کرے گا ضرور کرے گا۔ ضرور کرے گا۔ زمین وآسمان ٹل جائیں پر اس کی باتیں نہ ٹلیں گی۔‘‘
(جنگ مقدس ص۲۱۱، خزائن ج۶ ص۲۹۳)
۵؍ستمبر ۱۸۹۴ء تک پندرہ ماہ گذر گئے۔ مسٹر عبداﷲ آتھم عیسائی نہیں مرا۔ مرزاقادیانی بقول خود جھوٹے ٹھہرے۔ روسیاہ ہوئے۔
عیسائیوں کے ہاتھوں مرزاقادیانی کی رسوائی
مسلمانوں کے علاوہ عیسائیوں کے ہاتھوں سے جس قدر مرزاقادیانی کی بے عزتی