شراب نوشی وغیرہ) سے بھی بڑھ کر برا ہے اور سب سے بڑا فسق ہے۔ اب یا تو جناب مودودی صاحب قرآن وحدیث اور اس سے ماخوذ اصول سے یہ ثابت کریں کہ قرآن کریم میں منسوخ احکام کی نسخ ابدی نہیں ہے اور یا اپنے ہی قائم کردہ قائدہ کے مطابق دیانت اور انصاف کے ساتھ کھلے لفظوں میں اقرار کرلیں کہ وہ اپنی رائے اور رجحان کے پیرو ہیں اور جو ان کے ذہن میں آتا ہے کہہ گذرتے ہیں اور دین کے پیرو نہیں (اور ظاہر امر ہے کہ دین واسلام ایک ہی چیز ہے ’’ان الدین عند اﷲ الاسلام‘‘ تو جب وہ دین کے پیرو نہ ہوئے تو اپنی جماعت کا نام جماعت اسلامی کیوں تجویز کیا ہے؟) اور وہ سب سے بڑے فسق اور سب سے بڑے گناہ کے مرتکب ہیں ؎
من نہ گویم کہ ایں مکن آن کن
مصلحت بیں وکار آسان کن
دوم… قرآن کریم میں ان بیبیوں کا ذکر تفصیل سے مذکور ہے جن سے کسی مسلمان کو نکاح کی اجازت نہیں جن میں ایک یہ بھی ہے۔ ’’وان تجمعوا بین الاختین (النسائ:۲۳)‘‘ اور یہ بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرو۔
یہ حکم اپنے اطلاق اور عموم کی وجہ سے ان دو بہنوں کو بھی شامل ہے جن کا وجود الگ الگ اور مستقل ہو۔ جیسے عموماً ہوتا ہے اور ان کو بھی شامل ہے جو توام جڑواں اور متحد الجسم ہوں۔ جیسا کہ بہاولپور میں کوئی ایسا نادر واقع پیش آیا تھا اور علماء اسلام نے اس قرآنی حکم کو ایسی جڑواں بہنوں کے لئے بھی عام سمجھا ہے۔ لیکن مودودی صاحب اس نادر صورت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: ’’بظاہر علماء کی یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے۔ کیونکہ دونوں لڑکیاں توام بہنیں ہیں اور قرآن کا یہ حکم صاف اور صریح ہے کہ دونوں بہنوں کو بیک وقت نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔ لیکن اس پر دو سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ ان دو لڑکیوں کو دائمی طور پر تجرد پر مجبور کیا جائے اور یہ ہمیشہ کے لئے نکاح سے محروم رہیں؟ اور کیا قرآن کا یہ حکم واقعی اس مخصوص اور نادر صورتحال کے لئے ہے۔ جس میں یہ دونوں لڑکیاں پیدائشی طور پر مبتلا ہیں؟ میرا خیال یہ ہے کہ اﷲتعالیٰ کا یہ فرمان اس مخصوص حالت کے لئے نہیں ہے۔ بلکہ اس عام حالت کے لئے جس میں دو بہنوں کے الگ الگ وجود ہوتے ہیں اور وہ ایک شخص کے جمع کرنے سے ہی بیک وقت ایک نکاح میں جمع ہو سکتی ہیں۔ نہ نہیں‘‘ (ترجمان القرآن ص۱۲۶، نومبر۱۹۵۴ئ)