اب سوال یہ ہے کہ جو احکام قرآن کریم میں منسوخ ہیں اور جن کی نسخ قرآن کریم سے ثابت ہے جناب مودودی صاحب اپنے قائم کردہ اصول اور ضابطہ کے ماتحت یہ بتائیں کہ کتاب اﷲ کی کس آیت سے یہ ثابت ہے کہ قرآن کریم کے احکام منسوخہ کی نسخ ابدی نہیں ہے۔ اگر قرآن کریم کی کسی آیت سے اس کا ثبوت نہیں تو پھر یہ بتائیں کہ سنت رسول اﷲﷺ میں وہ کون سی متصل السند مرفوع اور صریح حدیث ہے جس سے یہ ثابت ہے کہ قرآن کریم میں منسوخ احکام کی نسخ ابدی نہیں ہے اور اگر ان دونوں سے بھی ثابت نہیں تو پھر یہ بتائیں کہ قرآن وسنت سے ماخوذ وہ کون سے اصول ہیں جن اصول سے یہ ثابت ہے کہ قرآن کریم کے احکام کی نسخ ابدی نہیں ہے؟ اور یہ بات بھی بالکل عیاں ہے کہ قرآن وحدیث سے جو اصول ماخوذ ہوںگے وہ بلا اختلاف سب آئمہ دینؒ اور سلف صالحینؒ کو معلوم ہوںگے اور اگر سب کو معلوم نہ ہوں تو بھی اس سے اقل کیا ہوسکتا ہے کہ آئمہ دین کی اکثر یت اور معتدبہ طبقہ تو ضرور ان سے شناسا ہوگا کہ قرآن وحدیث کے یہ یہ اصول ہیں۔ کیونکہ بات اصول کی ہورہی ہے۔ فروع اور جزئیات کی نہیں ہورہی اور یہ تو بالکل ناممکن ہے کہ تیرہ سو سال سے ان اصول کو تو کوئی نہ جانتا ہو اور چودھویں صدی میں وہ اصول کسی بزرگ پر منکشف ہوگئے ہوں کہ یہ یہ اصول ہیں جو قرآن وحدیث سے ماخوذ ہیں۔ اگر بالفرض مودودی صاحب یہ بتابھی دیں کہ فلاں اور فلاں نے یہ کہا ہے کہ قرآن کریم کے منسوخ احکام کی نسخ ابدی نہیں تو ان کی یہ بات قطعاً مردود ہوگی۔ اس لئے کہ فلاں اور فلاں نہ تو خداتعالیٰ کی کتاب ہے اور نہ سنت رسول ہے۔ (ﷺ) اور نہ کتاب وسنت سے ماخوذ اصول۔ اس لئے اگر کہیں کوئی شاذ ومتروک اور مردود قول کسی کا نقل بھی کر دیا جائے تو بھی اتنے بڑے وزنی دعویٰ پر اس کی کیا حیثیت ہے؟ مودودی صاحب کو اپنے قائم کردہ اصول کے تحت خداتعالیٰ کی کتاب اور سنت رسول اﷲﷺ سے اور ان سے ماخوذ اصول سے ہی یہ ثابت کرنا ہے کہ قرآن کریم میں جو احکام منسوخ ہوئے ہیں ان کی نسخ ابدی نہیں ہے اور اگر قرآن وحدیث اور ان سے ماخوذ اصول سے وہ یہ ثابت نہ کرسکیں تو لامحالہ اس باطل اور غیر اسلامی نظریہ میں (کہ قرآن کریم میں جو احکام منسوخ ہیں ان کی نسخ ابدی نہیں ہے) مودودی صاحب کی اپنی رائے اور رجحان طبع کارفرما ہوگا اور مودودی صاحب کے خود قائم کردہ قاعدہ کے رو سے وہ اس میں دین کے پیرو نہیں۔ بلکہ اپنی رائے اور رجحان کے پیرو ہیں اور ان کے اپنے بیان کے مطابق یہ سنگین گناہ تمام کبائر (زنا، قتل ناحق اور